دمشق:8 دسمبر کو شام کی سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلیوں کے بعد اسرائیل نے شام میں فوجی اہداف پر بمباری جاری رکھی، گولان ہائٹس کے بفر زون پر قبضہ کیا اور ملحقہ علاقوں میں پوزیشنیں قائم کیں۔ اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
8 تاریخ سے، اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق سمیت شام میں بہت سے مقامات پر شدید فضائی حملے شروع کیے، اور گولان کی پہاڑیوں میں ایک بفر زون پر عارضی طور پر قبضہ کیا ۔ اسرائیل نے اعلان کیا کہ شام اور اسرائیل کے درمیان 1974 میں طے پانے والا ڈس اینگیجمنٹ ایگریمنٹ” ختم ہو گیا ہے اور اسرائیل کو کنٹرول سنبھال لینا چاہیے۔
قطر، عراق، اردن سمیت دیگر ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اقدامات سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے اور یہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بن ساؤل نے 11 دسمبر کو کہا کہ شام کے خلاف اسرائیل کی حالیہ فوجی پیش قدمی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے 17 دسمبر کو ترجمان کے ذریعے اسرائیل کے اقدامات پر بیان میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کی پیش قدمی نے بفر زون کے قیام کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
Trending
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
- پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری
- بینک اسلامی کا پاکستان کے زرعی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق “ایگری وہیکل فائنانس” کا آغاز
- خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 29 اگست سے بارشوں کا امکان، اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔