یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس میں پٹرول بحران شدت اختیار کر گیا
ماسکو: یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث روس کی اہم آئل ریفائنریوں میں پیداوار متاثر ہونے سے ملک میں پٹرول کی قلت ایک بار پھر سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صنعتی ذرائع نے بتایا ہے کہ اگست کے اختتام پر روس میں پٹرول کی یومیہ پیداوار تقریباً 80 ہزار ٹن تک محدود ہوگئی، جبکہ ملکی طلب تقریباً 115 ہزار ٹن روزانہ ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کی متعدد اہم ریفائنریوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ پرم، نزنی نووگورود اور یاروسلاول کی ریفائنریاں بھی ان تنصیبات میں شامل ہیں جو موٹر پٹرول کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ریفائنریوں کی بندش کے نتیجے میں مقامی پیداوار اور طلب کے درمیان روزانہ تقریباً 35 ہزار ٹن کا فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اگست کے دوران روس میں پٹرول کی اوسط یومیہ پیداوار تقریباً 90 ہزار ٹن رہی، جو گرمیوں کی متوقع طلب کا تقریباً 80 فیصد بنتی ہے۔
ایندھن کی کمی کے باعث روس کے مختلف علاقوں میں پٹرول کی فروخت محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر صارفین کے لیے خریداری کی مقدار مقرر کردی گئی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی بنیاد پر پٹرول فروخت کرنے کے اوقات طے کیے گئے ہیں۔
پٹرول اسٹیشنوں پر طویل قطاریں بھی دیکھی جا رہی ہیں اور ایندھن ختم ہونے کے خدشے کے باعث بعض شہری غیر ضروری سفر سے گریز کر رہے ہیں۔
مقامی پیداوار میں کمی کے بعد روس نے بیرون ملک سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں اضافہ کردیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگست میں ایشیائی ممالک سے سمندری راستے کے ذریعے تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار ٹن پٹرولیم مصنوعات روس پہنچنے کی توقع ہے۔
اسی عرصے میں بیلاروس سے تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار ٹن پٹرول درآمد کیے جانے کا اندازہ ہے۔ تاجروں کے مطابق اگست کے دوران اب تک تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار ٹن درآمد شدہ پٹرول روس پہنچ چکا ہے۔
روسی حکومت نے مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے پٹرول کی برآمدات پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مقامی پیداوار اور درآمدات کو ملا کر اگست میں روسی مارکیٹ کو اوسطاً تقریباً 97 ہزار ٹن یومیہ پٹرول دستیاب ہونے کا امکان ہے، جو ملک کی موجودہ طلب کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے۔
یوں یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کی توانائی تنصیبات پر بڑھتا ہوا دباؤ پٹرول کی پیداوار اور ملکی طلب کے درمیان خلا کو مزید وسیع کر رہا ہے۔
PNP
Comments are closed.