by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) لاہور کے چڑیا گھر میں ایک ٹک ٹاکر کی جانب سے شیر کے پنجرے میں چھلانگ لگانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد چڑیا گھر کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ شخص بار بار شیر کے باڑے کے قریب موجود ممنوعہ حصے میں داخل ہونے اور پنجرے کے اندر جانے کی کوشش کرتا ہے۔ واقعے کے دوران چڑیا گھر میں تعینات سیکیورٹی اہلکار اسے روکنے میں مبینہ طور پر ناکام رہے۔ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد شہریوں کی جانب سے چڑیا گھر میں جانوروں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد چڑیا گھر آنے والے افراد اور جانوروں دونوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے خطرناک حرکات کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

ماضی میں بھی ویڈیوز بنانے کے دوران مختلف حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں بعض افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پیش آیا تھا، جہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران پستول چلنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔مقتول نوجوان کی شناخت 26 سالہ ابوبکر کے نام سے ہوئی، جو شاہین آباد، سیدو شریف کا رہائشی تھا۔رپورٹس کے مطابق ابوبکر ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا کہ اسی دوران پستول اچانک چل گئی اور گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور نوجوان کی لاش کو ضروری کارروائی کے لیے سینٹرل اسپتال سیدو شریف منتقل کردیا گیا۔یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر منفرد اور وائرل مواد بنانے کی کوشش میں خطرناک حرکات بعض اوقات انتہائی افسوسناک نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔

PNP

Comments are closed.