by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بے وقت کی بارشوں اور شدید گرمی سردی سے فروری 2027 تک نجات ممکن نہیں،اقوام متحدہ کی وارننگ

 

اقوام متحدہ کے زیر انتظام عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی رجحان ایل نینو آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں پہلے سے جاری اضافے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق ایل نینو رواں سال کے اختتام تک اپنی زیادہ سے زیادہ شدت کو پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے اثرات آئندہ سال بھی دنیا کے مختلف خطوں میں محسوس کیے جانے کا امکان ہے۔ اس موسمیاتی رجحان کے نتیجے میں درجہ حرارت اور بارشوں کے معمول میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں، جس سے بعض علاقوں میں شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر مقامات پر سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ایل نینو بحرالکاہل کے خطے میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے، جس کے دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کی سطح کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ سمندر میں موجود اضافی حرارت کا ایک حصہ فضا میں منتقل ہونے سے عالمی اوسط درجہ حرارت بھی بڑھ سکتا ہے۔

اس کے برعکس لا نینا کے دوران بحرالکاہل کے ان علاقوں میں سطحی پانی نسبتاً ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ یہ دونوں موسمیاتی رجحانات عالمی موسم پر اثرانداز ہوتے ہیں اور عموماً چند سال کے وقفے سے ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق معمول کے حالات میں مشرقی ہوائیں بحرالکاہل کے گرم پانی کو آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے قریب مغربی حصے کی طرف دھکیلتی ہیں، جس کے نتیجے میں مشرقی بحرالکاہل میں نسبتاً ٹھنڈا پانی گہرائی سے سطح پر آتا ہے۔ ایل نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور گرم پانی بحرالکاہل کے وسیع حصے میں پھیل جاتا ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اثرات پہلے ہی دنیا کے مختلف حصوں میں سیلاب، خشک سالی اور غیر معمولی موسمی حالات کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ رجحان کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو ان موسمیاتی اثرات میں بھی شدت آنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی موسمیاتی تبدیلی اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا غیر متوقع موسمی حالات سے پیدا ہونے والے خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں طویل مدتی اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں، جبکہ ایل نینو اس اضافے کو عارضی طور پر مزید نمایاں کرسکتا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا بڑا حصہ سمندر جذب کرتا ہے۔ ایل نینو کے دوران سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کے تبادلے میں تبدیلی آتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی اوسط درجہ حرارت میں عارضی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایل نینو کے اثرات مختلف خطوں میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتے ہیں۔ برصغیر میں اس موسمی رجحان کے دوران مون سون کی بارشیں معمول سے کم ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، جس سے بعض علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ دنیا کے کچھ دیگر حصوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایل نینو سمندری طوفانوں اور دیگر شدید موسمی واقعات کے امکانات پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے، جس کے باعث امریکا، بھارت، بنگلا دیش، جاپان اور کوریا سمیت مختلف ممالک میں موسمی حالات پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے نے ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا کے بیشتر خطوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہنے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ ایل نینو کی گزشتہ نمایاں لہر 2023 میں سامنے آئی تھی، جس کے بعد 2024 کو عالمی سطح پر ریکارڈ گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ موجودہ ایل نینو کے رواں سال کے اختتام پر عروج پر پہنچنے کے باوجود سمندروں میں موجود اضافی حرارت کے اثرات آئندہ سال بھی عالمی درجہ حرارت اور موسمی حالات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو قدرتی موسمیاتی چکر کا حصہ ہے، تاہم موجودہ عالمی حدت کے ماحول میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں محسوس ہوسکتے ہیں، جس کے باعث دنیا کے مختلف خطوں کو شدید گرمی، بارشوں میں بے قاعدگی، خشک سالی اور سیلاب جیسے خطرات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

PNP

Comments are closed.