امریکا کے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ میں اے آئی کے استعمال پر پابندی
نیویارک: امریکا کے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک کے طلبا کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد بچوں کی تعلیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقہ کار کو ازسرِنو ترتیب دینا ہے۔ نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں میں سالانہ تقریباً 9 لاکھ طلبا زیر تعلیم ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت ابتدائی جماعتوں کے طلبا کو کلاس روم میں لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کے استعمال سے بھی محدود رکھا جائے گا۔ تیسری جماعت تک کے بچوں کے لیے ڈیجیٹل آلات کے استعمال پر خاص پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق والدین اور اساتذہ نے تعلیمی اداروں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے خدشات میں بچوں کی ذہنی صحت، ادراکی نشوونما اور خود سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان شامل ہے۔
نئی پالیسی کے تحت طلبا کو اے آئی کے محدود استعمال کی اجازت صرف مخصوص تعلیمی مقاصد، خصوصاً ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اس کے بارے میں سیکھنے کے لیے دی جائے گی۔
نیویارک سٹی کے اسکولوں میں نفسیاتی یا جذباتی تعاون فراہم کرنے والے اے آئی کمپینئن چیٹ بوٹس کے استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
البتہ اساتذہ کو سبق کی تیاری، پیغامات تحریر کرنے اور دیگر انتظامی امور کے لیے اے آئی سے مدد لینے کی اجازت ہوگی، تاہم طلبا کے اسائنمنٹس کی جانچ اور گریڈنگ کے لیے اے آئی استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
محکمہ تعلیم نے مڈل اسکول کے طلبا کے لیے کلاس روم میں اسکرین کے استعمال کا وقت زیادہ سے زیادہ 45 منٹ جبکہ ابتدائی اسکول کے بچوں کے لیے 30 منٹ تک محدود رکھنے کی سفارش بھی کی ہے۔
واضح رہے کہ نیویارک سٹی کے اسکولوں میں 2023 میں چیٹ جی پی ٹی پر پابندی عائد کی گئی تھی، جسے بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔
اب مستقبل کی اے آئی پالیسی مرتب کرنے کے لیے اساتذہ، منتخب نمائندوں، ماہرین اور یونین نمائندوں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے، جو اپنی سفارشات اور رپورٹ پیش کرے گی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر نیویارک سٹی کے اسکولوں کے لیے مستقبل کی اے آئی پالیسی تیار کی جائے گی۔
PNP
Comments are closed.