by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مغربی ممالک کی نئی جوہری قرارداد بے سود ہوگی،ایران

تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور تین یورپی ممالک کی جانب سے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) میں نئی قرارداد لانے کی کوشش پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ویانا میں بین الاقوامی اداروں کے لیے ایرانی مشن نے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ممکنہ قرارداد کو مایوس کن اور بے نتیجہ اقدام قرار دیا ہے۔

ایرانی مشن کے مطابق مذکورہ ممالک ایک بار پھر IAEA کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق قرارداد منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کو دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے لے جایا جائے۔

ایرانی مشن نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے کوئی عملی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ایران کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک پہلے بھی اسی نوعیت کی پالیسی اختیار کرچکے ہیں، تاہم موجودہ اقدام بھی ان کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔

ایرانی مشن کا اشارہ 2025 میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے جوہری معاہدے کے تحت ’سنیپ بیک‘ طریقہ کار فعال کرنے کی کوشش کی طرف تھا۔ اس طریقہ کار کا مقصد ایران پر اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ عائد کرنا تھا۔

اس اقدام کی روس اور چین نے مخالفت کی تھی اور اس کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم بعد میں سلامتی کونسل میں پابندیوں سے متعلق نرمی کی مدت میں توسیع نہ ہونے کے باعث ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی، IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایسی قرارداد منظور کرانے کے لیے دیگر رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے ذریعے ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل تک پہنچانے کی راہ ہموار ہوسکے۔

IAEA بورڈ آف گورنرز کے 35 ارکان پر مشتمل ہے اور قرارداد کی منظوری کے لیے امریکا اور تین یورپی ممالک دیگر ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

PNP

Comments are closed.