by Rao Imran Suleman
Rao Nama

نیتن یاہو نے ہاریٹز کی رپورٹ کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا

 اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے تقریباً 10 روز قبل ممکنہ بڑے حملے سے آگاہ کیا گیا تھا۔

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں رپورٹ کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے وکلا کو ہاریٹز اور رپورٹ کے مصنفین کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔

ہاریٹز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے کچھ روز قبل نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حماس کی جانب سے ممکنہ بڑے حملے سے خبردار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار نے ایک ذریعے کے ذریعے متحدہ عرب امارات کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ ایک بڑے ’سرپرائز‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔ مبینہ طور پر اس پیغام میں اسرائیل کو ’زلزلے‘ کیلئے تیار رہنے کا کہا گیا تھا۔

ہاریٹز کے مطابق اماراتی حکام نے ان پیغامات کو بڑے حملے کی تیاری کی علامت سمجھتے ہوئے معلومات اسرائیلی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت تک پہنچائیں، تاہم ایجنسی نے مبینہ خطرے کو مسترد کردیا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعد ازاں اماراتی صدر نے براہ راست نیتن یاہو سے بات کرکے انہیں خبردار کیا، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اس انتباہ کو بھی نظر انداز کردیا۔

متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی براہ راست تصدیق یا تردید نہیں کی۔ اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے اماراتی صدر سے ایسی کسی ٹیلیفونک گفتگو کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کونسل اور ان کے فوجی سیکریٹری نے متعلقہ دنوں کے کال ریکارڈ کا جائزہ لیا، تاہم ایسی کسی کال کا ریکارڈ نہیں ملا۔

نیتن یاہو نے ہاریٹز کی رپورٹ کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا اور اسے بائیں بازو کی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک الگ بیان میں فلسطینی سیاسی رہنما محمد دحلان پر بھی رپورٹ کے پس پردہ ہونے کا الزام عائد کیا، تاہم دحلان کے نمائندوں نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں آئندہ کنیسٹ انتخابات کی تیاری جاری ہے اور نیتن یاہو کو سیاسی طور پر سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

PNP

Comments are closed.