برکس 2026 کا اعلامیہ جاری، پہلگام حملے کی مذمت،فلسطین کی حمایت کا اعادہ
نئی دہلی: بھارت میں ہونے والے برکس 2026 سربراہی اجلاس کے اختتام پر 45 صفحات اور 140 نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، جس میں دہشت گردی، فلسطین، غزہ، عالمی تجارت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات سمیت مختلف اہم معاملات پر رکن ممالک کا مشترکہ مؤقف سامنے آیا ہے۔
اعلامیے میں برکس ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کسی بھی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کی بھی مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
برکس ممالک نے دہشت گردی کی مالی معاونت، سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسلک کرنے کی مخالفت بھی کی گئی۔
اعلامیے میں نوجوانوں میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی روک تھام، انسانی اور اسلحے کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، سائبر جرائم، بدعنوانی اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
یکطرفہ ٹیرف اور پابندیوں پر تشویش
برکس ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کے خلاف یکطرفہ ٹیرف، غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں اور تحفظ پسندانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارت اور سپلائی چین کو متاثر کرنے کے ساتھ معاشی عدم مساوات میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔ برکس نے یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور دیگر جبری معاشی اقدامات کی مخالفت بھی کی۔
فلسطین اور غزہ سے متعلق مؤقف
برکس ممالک نے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا۔
اعلامیے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غزہ کی آبادی یا جغرافیائی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کی گئی۔ برکس نے اسرائیل فلسطین تنازع کے مستقل حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کی حمایت کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
غزہ میں شہریوں، طبی مراکز اور دیگر بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
برکس نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد پر زور دیا، جبکہ سوڈان میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل جنگ بندی اور مذاکراتی حل کی حمایت کی۔
عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ
اعلامیے میں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کی حمایت کی گئی۔ برکس ممالک نے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ نمائندگی دینے پر زور دیا۔
آئی ایم ایف کے کوٹے کے نظام میں اصلاحات اور عالمی بینک میں ترقی پذیر ممالک کے کردار میں اضافے کی حمایت بھی کی گئی۔
مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی
برکس ممالک نے مصنوعی ذہانت کو معاشی اور پائیدار ترقی کے لیے اہم موقع قرار دیتے ہوئے اسے محفوظ، قابل اعتماد، جامع اور سب کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر آفات سے نمٹنے اور نقصانات کم کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔ نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کی صدارت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کی، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
PNP
Comments are closed.