by Rao Imran Suleman
Rao Nama

دو روز بعد لانگ مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، اسلام آباد میں تاریخی مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان

لاہور (پی این پی) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پرعوام کو اتنا تو ریلیف نہیں دیا جتنے کے اشتہارات چلوا دیے، قوم کو ریلیف کی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق چاہیے، دو روز کے بعد اسلام آباد مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی، آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس دھرنے کے 31ویں روز کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں 41 مقامات پر دھرنے دیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم اور حلقہ خواتین کو تاریخی جلسے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنا 29 روز کا ریکارڈ توڑ دیا، ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اسلام آباد مارچ کی تیاری ہورہی ہے۔

 حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پرسوں اسلام آباد مارچ کا لائحہ عمل بتایا جائے گا جبکہ آج جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات ہوئی اور ہم نے پیٹرول ، آئی پی پیز سے متعلقات تمام حجت پوری کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں ٹال مٹول سے کام لیا اور کوئی فیصلہ نہیں کیا تو یہ آخری مذاکرات ہوں گے،حکومت ایک جانب بات چیت جاری ہے تو دوسری جانب رات کو پیٹرول بم بھی گرائے جاتے ہیں۔

 حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ روزانہ پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھانے کا طریقہ کار کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے 25 کروڑ عوام اذیت کا شکار ہیں، جب موجودہ حکومت اپوزیشن میں تھی تو کہتی تھی کہ رات کو پیٹرول بم پھینکا جارہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کا عوام کو پیٹرول پر دیا گیا ریلیف پکیج دھوکا ہے اور 25 ارب روپے اونٹ کے منھ میں زیرہ ہے، یہ خیرات پاکستانی قوم کو نہیں چاہیئے ، قوم کو حق چاہییے، قوم کا حق یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی بھتہ ختم کیا جائے ، فی لیٹر پیٹرول میں 135 روپے سے زیادہ ٹیکس ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم نےحکومت کی آگاہی مہم دیکھ لی ، آ پ کی بھتیجی بھی آگاہی مہم میں چل رہی ہے، اتنے کا ریلیف پیکج نہیں ہے جتنے کی میڈیا کے ذریعے مہم چلائی جارہی ہے ار ہمارے ہی پیسوں سے میڈیا کو پیسے دیے جارہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا طرز حکومت پاکستان کے عوام کو کچھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے، 566 ارب روپے پاکستان قوم سے جمع کیے ہیں ، 3 ماہ میں 25 اور75 ارب روپے کے پیکج سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

 حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دو روز بعد لانگ مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، اسلام آباد میں تاریخی مارچ ہوگا ، پورے پاکستان سے اتنی جگہ سے لوگ آئیں گے اور سنبھالنا مشکل ہوجائے گا، جماعت اسلامی وہ پارٹی نہیں ہے کہ جس کا لیڈر کو پکڑ میں جیل میں ڈال دیا جائے یا پھر ہمارے کارکنان کو خرید کر ساز باز کرلی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کیا تو شوگر مل مالکان نے کہا ہمیں یہ منظور نہیں ہمیں 10 لاکھ شوگرمل برآمد کرنے دی جائے، شوگر مل حکومت میں شامل لوگوں کی ہے، پہلے شوگرمل درآمد کی اور ٹیکس فری کی لیکن عوام کو ٹیکس فری نہیں کیا جاتا۔

 امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جب شوگر برآمد کی تو تب شوگر مہنگی کردی گئی جس کا فائدہ نہ کسان کو ہوا اور نہ ہی عوام کو فائدہ ہوا، کسان مطالبہ کررہے ہیں کہ شریف خاندان ایک ارب روپے کے نادہندہ ہے، شریف خاندان درآمد اور برآمد میں فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن کسانوں کو ان کا حق نہیں دیتے۔

 انہوں نے کہا کہ جب ہماری کمیٹی کہتی ہے کہ سرکاری ملازمین کو 1300 سی سی میں لایا جائے تو انہیں سانپ سونگ جاتا ہے۔



PNP

Comments are closed.