حوثی حملوں کی روک تھام: جرمنی میں امریکہ، اسرائیل اور عرب کمانڈروں کی مشترکہ مشاورت
برلن:جرمنی میں امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے زیرِ اہتمام ایک اہم اور خفیہ عسکری اجلاس منعقد ہوا، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ عرب ممالک کے افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔
بین الاقوامی ذرائع اور امریکی دفاعی حکام کے مطابق اس اجلاس کا بنیادی مقصد خطے کی سیکیورٹی، بالخصوص یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں اور سمندری راستوں میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنا تھا۔
اخباری اور دفاعی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے چیفس آف اسٹاف نے شرکت کی۔
اجلاس کا بڑا فوکس یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے باب المندب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر تھا۔
اجلاس میں حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس کی فراہمی اور فضائی و بحری دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اتحادیوں کو یقین دہانی کرائی کہ امریکہ خطے سے اپنی افواج کا انخلا نہیں کرے گا اور تنگہ ہرمز و بحیرہ احمر میں جہاز رانی کا تحفظ یقینی بنائے گا۔
PNP
Comments are closed.