by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ممدانی نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیدیا

غزہ جنگ کے معاملے پر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان بیان بازی میں شدت آگئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینی عوام کے خلاف ’’ہولناک نسل کشی‘‘ کا ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا۔ ممدانی نے یہ مؤقف نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل اختیار کیا۔

ممدانی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ پر عمل ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ نیویارک شہر کے پاس نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

ظہران ممدانی کے بیان کے ردعمل میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر پر حماس کی حمایت اور شہر کے یہودیوں کے خلاف احتجاج کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے۔

نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی فوج کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کریں گے اور ظہران ممدانی کے بارے میں بھی بات کریں گے۔ انہوں نے ممدانی کو حماس کی حمایت اور نیویارک کے یہودیوں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیزی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا ہدف حماس ہے۔ دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت نے 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔

نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع تقریر سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تنازع عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

PNP

Comments are closed.