by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لاہور میں اجتماعی زیادتی کی شکار غیر ملکی لڑکی عدالت پیش، بیان قلمبند کرا دیا

لاہور (پی این پی): لاہور کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی 20 سالہ خاتون نے عدالت کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرا دیا۔

پولیس کے مطابق غیر ملکی خاتون کو جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران خاتون کا بیان ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا، جبکہ بیان کی ریکارڈنگ کے وقت تمام غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر بھیج دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون چند روز قبل لاہور پہنچی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ دو نامعلوم خواتین اسے مبینہ طور پر ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں ان کے تین ساتھی پہلے سے موجود تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں خاتون کو کیفے سے ایک فلیٹ منتقل کیا گیا اور وہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلائی گئی، جس کے بعد تین افراد نے اس کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مبینہ ملزمان خاتون کو ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس معاملے کا مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا جاچکا ہے اور تفتیشی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہیں۔

عدالت میں بیان ریکارڈ ہونے کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد متاثرہ خاتون کو سکیورٹی حصار میں عدالت سے ایک خفیہ راستے کے ذریعے باہر منتقل کیا گیا۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق کیس کی تفتیش میرٹ پر آگے بڑھائی جا رہی ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ مشتبہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیس میں ہونے والی پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ 19 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بھی ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش کا مقدمہ سامنے آیا تھا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون ملینڈا مائی کے والد رابرٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کے بعد آدی محمود نامی ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔

PNP

Comments are closed.