تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.4 ارب روپے زیادہ ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی انکم ٹیکس ادائیگی میں 10.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے مجموعی طور پر 18.4 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق ہول سیلرز کی ٹیکس ادائیگی 10 فیصد کمی کے بعد 6.2 ارب روپے رہی، جبکہ ریٹیلرز نے 11.3 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس وصولی 38 فیصد کمی کے بعد 35.2 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 ارب روپے کم ہے، حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ایڈوانس انکم ٹیکس میں 50 فیصد کمی کی گئی تھی۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی۔
جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصولی 42 فیصد کمی کے بعد 23 ارب روپے جبکہ خریداری پر انکم ٹیکس وصولی 31 فیصد کمی کے بعد 12.2 ارب روپے رہی۔
ذرائع کے مطابق ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے مجموعی طور پر 54 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ تنخواہ دار طبقے نے ان دونوں شعبوں کے مقابلے میں 90 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل تنخواہ دار طبقے کا سالانہ ٹیکس حصہ 391 ارب روپے تھا، جو 2 سالہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد بڑھ کر 629 ارب روپے ہو گیا۔
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے 52 ارب روپے کے ریلیف کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ ٹیکس کی شرح میں 3 فیصد تک کمی بھی کی گئی تھی۔
PNP
Comments are closed.