شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوجی تعاون پر غور
لندن: امریکی اور برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام سعودی عرب کی درخواست پر یمن کے معاملے میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ زیر غور تجاویز میں دفاعی تعاون اور فوجی مہارت کے تبادلے سے لے کر حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی فورسز کی معاونت کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف امکانات شامل ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سعودی عرب نے شام سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد طلب کی ہے، تاہم ایک شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ دمشق کی موجودہ ترجیح داخلی معاملات، بحالی اور تعمیر نو پر مرکوز ہے۔
شامی سفارت کار کے مطابق اگر ریاض کی جانب سے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے سے متعلق باضابطہ درخواست کی جاتی ہے تو اس کا جائزہ دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں اور دوطرفہ روابط کے تناظر میں لیا جائے گا۔
رپورٹس میں امریکی حکام اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شام کی ممکنہ عسکری شمولیت یمن کے تنازع کے علاقائی اور فرقہ وارانہ پہلوؤں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہ راست جھڑپ کی صورت میں خطے میں ردعمل بڑھ سکتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق شامی عبوری صدر احمد الشرع نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ امریکی حکام کے مطابق احمد الشرع سعودی عرب کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم شام کی جانب سے کسی حتمی فیصلے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
PNP
Comments are closed.