by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پی ٹی آئی نے انتہا پسندی کی سیاست نہ چھوڑی تو عمران خان جیل میں ہی رہیں گے، بلاول بھٹو زرداری

کراچی (پی این پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف نے انتہا پسندی کی سیاست ترک نہ کی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہی رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان خود پی ٹی آئی کو ہی ہو رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار بلدیہ ٹاؤن کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر شہر کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر انہیں مجرم بنانا چاہتے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی اس کے برعکس نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم دینا چاہتی ہے۔پارٹی نوجوانوں کو میدان میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے، نہ کہ جرائم میں ملوث ہوتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوانوں کو پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک سہولت فراہم کی گئی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج ایک قانونی اور آئینی آپشن ہے  اور چند روز قبل صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی تھی۔انتہا پسندی کی سیاست کا نقصان پورے ملک کو ہو رہا ہے اور اس کی مثال خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات ہیں۔ہم ن لیگ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہیں کی اور ہماری یہ تجویز مانی کہ گورنر راج یا ایمرجنسی آخری آپشن ہونا چاہیے۔نہیں چاہتے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا آپشن استعمال کیا جائے۔

پی پی پی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کا حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا چکا تھا اور فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے بھی ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے مذاکرات کو ناکام کیوں بنایا۔پی ٹی آئی کا کردار ملک اور صوبے کی بہتری کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوام میں حمایت حاصل ہے، لیکن وہ انتہا پسندی کی سیاست کی وجہ سے یہ حمایت کھو رہے ہیں۔پی ٹی آئی کی لڑائی سیاسی جماعتوں، عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ، سب کے ساتھ ہے اور یہی کردار پارٹی کا وفاقی سطح پر رہا، اب یہی روش صوبائی سطح پر بھی اپنائی جا رہی ہے۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے مذاکرات کی سیاست چھوڑ کر منفی سیاست کا راستہ اپنا لیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ منفی سیاست ترک کرے تاکہ اپنی صوبائی حکومت بچا سکے، کیونکہ ان کے بقول پارٹی کا کردار شہر اور وفاق کی سطح پر پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔اگر یہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مخلص ہیں تو انہیں انتہا پسندی کی سیاست ترک کر دینی چاہیے، کیونکہ پی ٹی آئی کا تنازع وفاق سمیت ہر سطح پر موجود ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو مذاکراتی عمل میں واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کمیٹیوں میں واپس آتی ہے اور بات چیت کرتی ہے تو معاملات بہتری کی جانب جا سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی ضد برقرار رہی تو پی ٹی آئی کا کردار صوبائی سیاست میں بھی باقی نہیں رہے گا۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ عمران خان آج جیل میں ہیں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ ہمیشہ جیل میں ہی رہیں گے۔ انہوں نے اپنے والد آصف علی زرداری کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وہ ’14‘ سال تک جیل میں رہے۔اگر پی ٹی آئی نے انتہا پسندی کی سیاست جاری رکھی اور ضد نہ چھوڑی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان پھر جیل میں ہی رہیں گے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کا بھی کردار ہونا چاہیے، اور پیپلز پارٹی اس کردار کو خوش آمدید کہے گی۔



PNP

Comments are closed.