by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لاء کالجوں کے امتحانی نتائج میں بے قاعدگیاں، جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر خان کو عہدے سے ہٹا دیا

کراچی (پی این پی) جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اعلیٰ حلقوں کی مداخلت پر سرکاری لاء کالجوں کے امتحانی نتائج میں بے قاعدگیوں اور رد و بدل کا نوٹس لیتے ہوئے ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر خان کو عہدے سے ہٹادیا، انھیں ان کے شعبے میں تدریس کے لیے واپس بھجوادیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’’ ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسر کو ہٹاکر ان کی جگہ ڈاکٹر غفران سعید کو ناظم امتحانات مقرر کردیا گیا جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے، ڈاکٹر غفران سعید کا تعلق شعبہ فوڈ اینڈ سائنس سے ہے۔

یاد رہے کہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے لاء کالجوں کے فیل طلبا کو پاس کرنے کا یہ راز افشا کیا تھا۔ معاملہ سامنے آنے پر ملک بھر میں چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں۔

اِدھر تاحال معاملے کی انکوائری کے لیے کوئی کمیٹی قائم نہ ہوسکی اور نتائج میں رد و بدل کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے امتحانی نتائج میں رد و بدل کے ثبوت ضائع ہونے کے خدشات تاحال موجود ہیں۔ 

بتایا جارہا ہے کہ نئے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے امتحانی کاپیاں خود منگوا کر دیکھیں تو اکثر آنسر شیٹس خالی تھیں اور ان پر مارکس دیے گئے تھے۔

 واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی سفارش اور سبک دوش قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد کی منظوری سے 150 سے زائد قانون کے طلبا کو پاس کیا تھا، متعلقہ تقریبا ڈیڑھ سو طلبا امتحانی کاپیوں اور جاری کردہ نتائج میں فیل تھے بڑی تعداد میں فیل طلبا کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی بناکر پاس کیا گیا تھا۔ فیل امیدوار بی اے-ایل یل بی ایس ایم لاء اور اسلامیہ کالج کے طالب علم تھے۔

ایکسپریس نیوز نے پاس کیے گئے فیل طلبا کی امتحانی کاپیوں کا عکس، فیل/پاس مارکس شیٹس اور ایوارڈ شیٹ حاصل کرکے خبر نشر کی تھی جس کے مطابق ڈین لاء نے متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کے ہمراہ فرضی اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس کیا اور اجلاس کی روداد قائم مقام وائس چانسلر سے منظوری کرانے کے بعد برطرف ناظم امتحانات نے نتائج تبدیل کیے تھے تاہم، ڈین لاء اور پرنسپل ایس ایم لاء کالج اس معاملے کو قانونی قرار دیتے رہے۔

 نتائج میں تبدیلی کی اس داستان نے نئے وائس چانسلر کے لیے چیلنج کھڑے کردیے ہیں۔ ایل ایل بی میں بڑی تعداد میں طلبا ایسے تھے جو اوبلیگیشن اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم مارکس کے ساتھ فیل تھے، فرضی اسکروٹنی کراکے انھیں 50 سے 65 کے درمیان مارکس دے کر پاس کیا گیا تھا۔

 ایل ایل بی کے نتائج کے اجرا کے بعد شعبہ امتحانات نے طلبا کو پہلے فیل جبکہ اسکروٹنی کے بعد پاس کی مارک شیٹس جاری کیں تھیں۔

 رئیس کلیہ قانون، متعلقہ دونوں لاء کالجوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل ایک اسکروٹنی کمیٹی از خود ہی قائم ہوگئی تھی۔ اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا تھا۔ اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی قانون میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی گنجائش نہیں ہے۔

 6 اگست کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری برطرف ناظم امتحانات نے قائم مقام وائس چانسلر سے لی تھی۔

 وائس چانسلر سے منظوری میں دیگر متعلقہ کیسز کی اصطلاح شامل کرکے مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں بھی فیل طلبا کو پاس کیا گیا تھا۔

 وائس چانسلر سے منظوری ملتے ہی 6 اگست کو ہی ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل کی جانب سے طلبا کو اسکروٹنی اپلائی کرنے کو کہا تھا۔ برطرف ناظم امتحانات نے اطلاع کو غلط قرار دیا تھا۔ ڈین رئیس کلیہ کی جانب سے نتائج تبدیل کرنے کو قانونی قرار دے کر رزلٹ میں رد و بدل کی تصدیق کی گئی تھی۔

 امتحانی ماہرین کے مطابق سالانہ سسٹم کی اسکروٹنی میں صرف ری کائونٹنگ کی گنجائش ہے ری اسسمنٹ نہیں ہوتی۔



PNP

Comments are closed.