کراچی (پی این پی) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالیاتی نظام میں خواتین کی شمولیت بڑھانے اور صنفی فرق کم کرنے کے لیے ’’برابری پر بینکاری پالیسی 2026‘‘ کا دوسرا ایڈیشن جاری کردیا۔
مرکزی بینک کی جانب سے کہا گیا نئی پالیسی کا مقصد بینکاری سہولتوں سے محروم خواتین کو مالیاتی نظام میں شامل کرنا، ڈیجیٹل بینکاری تک رسائی بڑھانا اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا ہے۔ پالیسی میں خواتین کاروباری افراد کے لیے قرضوں اور مالی معاونت کی سہولتیں بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔سابقہ پالیسی پر عمل درآمد کے بعد مالی شمولیت میں صنفی فرق 2021 میں 39 فیصد سے کم ہوکر 2025 میں 29 فیصد رہ گیا۔اسی عرصے میں بینکنگ کے شعبے میں خواتین ملازمین کا تناسب 13 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہوگیا، جبکہ بینکوں نے 17 ہزار 500 سے زائد خواتین کو ملازمتیں فراہم کیں۔
نئی پالیسی کے تحت بینکوں میں خواتین کی بھرتیوں، صارفین تک رسائی اور برانچ لیس بینکاری ایجنٹس میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ کام کرنے والی ماؤں کے لیے ڈے کیئر سہولتوں اور خواتین کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے کے لیے کیریئر ڈیولپمنٹ پالیسیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
سٹیٹ بینک نے خواتین کے لیے آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹس متعارف کرانے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور خواتین کی ملکیت یا زیرِ انتظام کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔پالیسی کے تحت خواتین کاروباری افراد کے لیے آسان قرضہ سکیمیں، متبادل کریڈٹ اسیسمنٹ اور ضمانت کے لچکدار طریقے اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاکہ محدود کریڈٹ ہسٹری رکھنے والی خواتین کو بھی قرضوں تک رسائی مل سکے۔
سٹیٹ بینک پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے سہ ماہی اعداد و شمار اور باقاعدہ جائزوں کا نظام بھی وضع کرے گا۔ پالیسی کا ہدف قومی مالی شمولیت حکمت عملی کے تحت 2028 تک مالی شمولیت میں صنفی فرق کو 25 فیصد تک کم کرنے میں مدد دینا ہے۔
PNP
Comments are closed.