امریکا میں ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات میں 19 فیصد اضافہ
امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں، ستمبر کے دوران ٹرکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کے اخراجات سالانہ بنیاد پر 19 فیصد بڑھ گئے، جبکہ خوراک کی تیاری اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ محنت کے ستمبر کے پیداواری قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار میں تھوک سطح پر مہنگائی میں توقعات سے زیادہ اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ کاروباری اداروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں صارفین کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ اکنامکس نے ڈیزل کو امریکی معیشت کے لیے اہم ایندھن قرار دیا ہے، کیونکہ سامان کی نقل و حمل، زرعی مشینری اور خوراک کی ترسیل سمیت متعدد شعبے اس پر انحصار کرتے ہیں۔
امریکا میں ٹرکوں کے ذریعے مال برداری کے اخراجات ستمبر میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 19 فیصد بڑھ گئے۔ رپورٹ میں اس اضافے کو چار سال سے زائد عرصے کے دوران بلند ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔
ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث انہیں مال برداری کے نرخ بڑھانے پڑ سکتے ہیں۔ اس کا اثر سامان تیار کرنے والی کمپنیوں، دکانوں اور بالآخر عام صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔
ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ زراعت میں استعمال ہونے والے ٹریکٹروں، فصلوں کی کٹائی کی مشینوں اور زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے والے ذرائع کے اخراجات بھی بڑھا سکتی ہیں۔ اس صورت حال سے خوراک کی تیاری، تقسیم اور فروخت کے شعبوں پر اضافی مالی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں خوراک کی تیاری کے ابتدائی مراحل سے متعلق خام مال اور پیداواری لاگت کے بعض اشاریوں میں سالانہ بنیاد پر 15.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایندھن اور ترسیل مہنگی ہونے سے کسانوں، خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں اور تقسیم کاروں کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گروسری اسٹورز اور ریستورانوں میں قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران امریکا میں کھلونوں کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پیداواری اور ترسیلی اخراجات میں اضافے کے اثرات مختلف صنعتوں تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم ہر شے کی قیمت میں اضافے کو صرف ڈیزل مہنگا ہونے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ خام مال، اجرت اور طلب سمیت دیگر عوامل بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد ہونے کے باعث صارفین کی طلب برقرار ہے۔ ایسی صورت حال میں بعض کاروباری اداروں کے لیے اضافی اخراجات اپنی مصنوعات اور خدمات کی قیمتوں میں شامل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر ڈیزل کی قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں امریکی صارفین کو مختلف اشیا اور خدمات کے لیے زیادہ ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔ تاہم مہنگائی کی شدت کا انحصار متعلقہ شعبے، پیداواری لاگت اور مارکیٹ کی صورت حال پر ہوگا۔
PNP
Comments are closed.