اسرائیل نے اشتہارات میں ردوبدل کرکے الجزیرہ ٹی وی کے کمپیوٹرز پر جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کرلیا
اسرائیل نے اشتہارات میں ردوبدل کرکے الجزیرہ ٹی وی کے کمپیوٹرز پر جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کرلیا، تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی نے الجزیرہ کے صحافیوں سمیت دیگر اداروں کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات کو نشانہ بنانے میں کردار ادا کیا، جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے فائلوں، ای میلز، پیغامات اور دیگر حساس معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی۔
الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اپنے متعدد ملازمین کو نشانہ بنانے والے جاسوسی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے۔ ادارے نے ان حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی ڈسکور ٹیک (Discover-Tech) نے ایسے اشتہارات خریدے جن کے ذریعے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کینڈیرو (Candiru) کا تیار کردہ جاسوسی سافٹ ویئر ہدف بنائے گئے آلات تک پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق الجزیرہ کی ٹیکنالوجی ٹیم نے 2024 میں بعض صحافیوں کے زیر استعمال آلات میں مشکوک سرگرمیاں دیکھی تھیں، جو 2025 تک جاری رہیں۔ اس کے بعد الجزیرہ نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے لیے سٹیزن لیب سے رابطہ کیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ حملوں کے لیے ’’زیرو کلک‘‘ تکنیک استعمال کی گئی، جس میں بعض حالات میں صارف کو کسی لنک پر کلک کرنے یا فائل کھولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ متاثرہ اشتہار کے ذریعے ڈیوائس تک جاسوسی سافٹ ویئر پہنچایا جا سکتا تھا۔
سٹیزن لیب کے مطابق، یہ سافٹ ویئر متاثرہ آلات سے فائلیں، دستاویزات، براؤزر کی معلومات، کوکیز اور محفوظ شدہ اکاؤنٹ تفصیلات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کی بورڈ پر ٹائپ کی جانے والی معلومات ریکارڈ کرنے، اسکرین شاٹس لینے اور بعض حالات میں مائیکروفون، ویب کیم، ای میلز اور پیغامات تک رسائی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ نے کہا کہ سٹیزن لیب کے ساتھ تعاون سے حملوں کی تصدیق اور انہیں عوامی سطح پر دستاویزی شکل دینے میں مدد ملی۔ نیٹ ورک کے مطابق صحافیوں اور ان کے آلات کو نشانہ بنانا ان کے پیشہ ورانہ کام اور آزادیٔ صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
دوسری جانب نیویارک میں قائم اشتہاری سیکیورٹی کمپنی کنفیئنٹ (Confiant) نے اپنی الگ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ڈسکور ٹیک کے بعض اشتہارات ایسے حساس نیٹ ورکس میں بھی دکھائی دیے جو پینٹاگون، اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے زیر استعمال ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کینڈیرو کا جاسوسی سافٹ ویئر اس سے قبل بھی مختلف ممالک میں صحافیوں، ناقدین اور دیگر افراد کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات کا سامنا کر چکا ہے۔ امریکی حکومت نے 2021 میں مبینہ نقصان دہ سائبر سرگرمیوں کے باعث اس کمپنی کو بلیک لسٹ کیا تھا۔
تحقیق کے مطابق، اس معاملے میں استعمال کیے گئے مخصوص جاسوسی نظام کی لاگت کئی ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ تاہم، اس حوالے سے سامنے آنے والے نتائج تحقیقاتی رپورٹس پر مبنی ہیں اور ذمہ دار فریقین کے مؤقف اور مزید باضابطہ تفصیلات سے معاملے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔
PNP
Comments are closed.