ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور اساتذہ کی بیرونِ ملک روانگی پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، حلیم عادل شیخ
کراچی(پی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ ایسا نظام جو ڈاکٹروں، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور اساتذہ کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر دے، درحقیقت پاکستان کو ان باصلاحیت افراد سے محروم کر رہا ہے جن کی ملک کو بقا اور ترقی کے لیے اشد ضرورت ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 45 ہزار 830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک گئے، جبکہ 2025 میں مزید 28 ہزار 726 پاکستانیوں نے بیرونِ ملک روزگار حاصل کیا۔ اسی طرح 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔یہ اعداد و شمار ایسی حکومت کی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہیں جو ملک کے باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے پاکستان میں مواقع فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور اساتذہ جیسے اہم شعبوں سے وابستہ افراد کی بیرونِ ملک روانگی ملک کے انسانی وسائل کے لیے بڑا نقصان ہے۔ باصلاحیت افراد کو ملک میں بہتر مستقبل، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر پاکستان اپنی ترقی کے لیے درکار قیمتی افرادی قوت سے محروم ہوتا رہے گا۔
PNP
Comments are closed.