پیرس بہت جلد مسلم شہر بن جائے گا،ٹرمپ کا متنازع بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی اور احتجاجی مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی امیگریشن پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیرس بہت جلد ایک ’مسلم شہر‘ بن جائے گا اور فرانس کو اپنی سرحدوں پر سخت پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرانس میں ہونے والی بدامنی کو تارکینِ وطن کی آمد سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کو پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر سے لوگوں کو ملک میں آنے کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایمانوئل میکرون کو سرحدیں بند کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم فرانسیسی صدر نے اس پر عمل نہیں کیا۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ سرحدی نگرانی سخت کریں، بصورتِ دیگر انہیں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
#BREAKING: Trump says Paris is going to be a Muslim City very soon, reacting to violence, rioting and loot across France. pic.twitter.com/mWdFA1Cv3T
— Aditya Raj Kaul (@AdityaRajKaul) October 19, 2026
دوسری جانب فرانس میں احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، تعلیمی نظام اور عوامی سہولتوں سے متعلق شکایات بھی شامل ہیں۔ مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے اور ایک تاریخی بلدیاتی عمارت کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔
تشدد کے واقعات کے بعد فرانسیسی حکام نے بعض شہروں اور پیرس کے مخصوص علاقوں میں رات کے وقت پابندیاں نافذ کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات سخت کردیے۔
ٹرمپ نے بدامنی کی بنیادی وجہ امیگریشن کو قرار دیا، تاہم احتجاج کے تمام اسباب اور واقعات کی نوعیت سے متعلق مکمل تصویر مختلف معاشی اور سماجی شکایات کو بھی سامنے لاتی ہے۔ ان کے بیان نے فرانس کی امیگریشن پالیسی اور یورپ میں تارکینِ وطن کے کردار سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
PNP
Comments are closed.