by Rao Imran Suleman
Rao Nama

یمن میں حالیہ لڑائی کے باعث ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ، اقوامِ متحدہ

نیویارک: اقوامِ متحدہ نے منگل کو بتایا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارے نے تعز شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں پناہ لینے والے افراد کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ حوثیوں نے تعز سے عدن جانے والا واحد راستہ بند کر کے انسانی امداد کی ترسیل اور ضروری اشیا تک رسائی روک دی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔

انھوں نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تعز میں امداد کی فراہمی کی اجازت دے۔

وولکر ترک کے مطابق صوبے بھر میں اب تک 32 شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 14 بچے اور نو خواتین شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تعز کی صورتِ حال خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ حالیہ تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں سے تقریباً نصف نے اسی شہر میں پناہ لے رکھی ہے۔

PNP

Comments are closed.