
آسٹریلیا کے سابق کرکٹر عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے نام سے منسوب زیرِ گردش پوسٹ پر وضاحت پیش کر دی۔
سوشل میڈیا پر آسٹریلوی کھلاڑی کی پرانی ٹوئٹ کو فرانس میں ہونے والے احتجاج کی تصویر کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
متنازع پوسٹ میں فرانس میں ایک احتجاج کے دوران فلسطینی پرچم اٹھائے ایک شخص کی تصویر دکھائی گئی تھی۔
تصویر کے ساتھ صارف نے عثمان خواجہ کی ایک پرانی ٹوئٹ بھی شیئر کی، جس میں لکھا تھا کہ اس کا بے صبری سے انتظار ہے، فلسطینی پرچم ہر جگہ لہرا رہے ہوں گے۔
زیرِ گردش پوسٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کھلاڑی نے کہا کہ جھوٹ پھیلانا بند کریں۔
عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے یہ پیغام کب اور کس مقصد کے لیے لکھا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے یہ ٹوئٹ 2 سال قبل ایک فٹ بال میچ کے حوالے سے کی تھی، جھوٹ پھیلانا بند کریں۔
خیال رہے کہ فرانس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے عوامی خدمات اور تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔ بعض مظاہروں کے دوران تشدد بھی ہوا، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے اصل پیغام 10 جون 2024ء کو پوسٹ کیا تھا۔
PNP
Comments are closed.