امریکا کی ترکیہ کے ساتھ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مشترکہ تجویز کی تردید
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ترکیہ کے ساتھ کسی مشترکہ تجویز کی موجودگی کی تردید کر دی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن لبنان کے موجودہ سیاسی نظام میں تبدیلی کی کسی تجویز کی بھی حمایت نہیں کرتا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں واضح کیا کہ امریکا اور ترکیہ کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوئی مشترکہ منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق امریکا لبنان کے اس سیاسی نظام میں تبدیلی کا حامی نہیں جو 1990 میں 15 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والے طائف معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
ٹومی پگٹ نے اسرائیل، لبنان اور امریکا کے درمیان جون میں طے پانے والے سہ فریقی فریم ورک معاہدے سے امریکی وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا مقصد تنازعات کے سلسلے کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
دوسری جانب عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل، امریکا اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اہم مقاصد میں لبنان کی خودمختاری بحال کرنا، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور لبنانی علاقے سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا یقینی بنانا شامل ہیں۔
امریکی بیان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے امریکا اور ترکیہ کی مشترکہ تجویز کی تردید کی گئی ہے، جبکہ عرب میڈیا کی رپورٹ میں سہ فریقی معاہدے کے مبینہ مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔
PNP
Comments are closed.