by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سائبر کرائم، 60 فیصد معاملات مالی فراڈ کے سامنے آئے، این سی سی آئی اے

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم کے 60 فیصد معاملات مالی فراڈ کے سامنے آتے ہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) حکام کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ فراڈ او ٹی پی سے کیا جاتا ہے جبکہ واٹس ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے کیے جانے والا فراڈ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

حکام نے مزید بتایا کہ اکاؤنٹ ہیک کرنے اور کرپٹو پونزی اسکیمز کا مالی فراڈ کی فہرست میں چوتھا نمبر ہے۔

کمیٹی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ کرپٹو کا معاملہ میر رضا کیس میں بھی تھا اور بہت فلمی انداز میں کیس کی تفصیلات سامنے آئیں۔

ارکان پارلیمنٹ فرحان چشتی اور شہریار مہر سے فراڈ کا معاملہ سینیٹر قرۃالعین مری نے اٹھایا اور بتایا کہ دونوں ارکان کی ڈپلی کیٹ سم ملزمان نے حاصل کرلیں۔

این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ یہ معاملہ ٹیلی کام کمپنیز اور ایس ای سی پی کا ہے، ان سے جواب لیا جائے۔

این سی سی آئی اے حکام نے چینی سفارتخانے کے ساتھ آن لائن فراڈ پر بریفنگ دی اور بتایا کہ فراڈ کرنے والے کمبوڈیا میں بیٹھے ہیں۔



PNP

Comments are closed.