بیجنگ(نیوزڈیسک)62 سالہ بارنیٹ نے بوئنگ کمپنی میں 30 سال سے زیادہ کام کیا تھا اور وہ ایک طویل عرصے تک کوالٹی مینجر رہے۔ انہوں نے کئی بار مسافر طیاروں کی پیداوار اور کمپنی کی اندرونی انفراتفری کے بارے میں خبریں بریک کیں، اور انہیں بیرونی دنیا نے بوئنگ کا “وسل بلور” کہا۔ مقامی وقت کے مطابق 9 مارچ کو وہ ایک وین میں مردہ پائے گئے۔امریکی پولیس کے مطابق اںہوں نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی ہے ۔یاد رہے اسی دن، انہیں بوئنگ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں گواہی دینا تھی۔پھر چند دن بعد امریکی میڈیا میں بارنیٹ کی اپنے دوست کے ساتھ گفتگو منظر عام پر آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “اگر مجھے کچھ ہوا تو میں نے یقیناً خودکشی نہیں کی ہو گی “۔اس گفتگو سے لوگوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
اکتوبر 2018 اور مارچ 2019 میں، دو بوئنگ 737 MAX طیارے بالترتیب انڈونیشیا اور ایتھوپیا میں گر کر تباہ ہوئے، جن میں کل 346 افراد ہلاک ہوئے۔ رواں سال بوئنگ کو کئی حفاظتی مسائل پیش آئے ہیں ۔ صرف جنوری سے فروری کے درمیان بوئنگ طیاروں کو 6 حادثات پیش آئے۔ جب کہ بوئنگ کے ملازمین میں دوران فرائض منشیات کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بوئنگ کی پیداوار اور مینوفیکچرنگ میں افراتفری ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جس کی بنیادی وجہ معیار سے زیادہ اسٹاک پر زور، بار بار قیادت کی تبدیلیاں، اور جوابدہی کے طریقہ کار میں کمی ہے۔ اس کے علاوہ منافع کو زیادہ اہمیت دینا مصنوعات کی کوالٹی کے لیے مخفی خطرات ہیں۔
امریکی حکومت کے متعلقہ محکموں کی نگرانی کا فقدان ان مسائل میں بنیادی عنصر ہے۔ کئی دہائیوں سے، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے پیسے بچانے کے لیے ہوائی جہاز کے حفاظتی سرٹیفیکیشن کے کچھ امور کو بوئنگ اور دیگر ہوائی جہاز بنانے والوں کو آؤٹ سورس کیا ہے، جو “ریفرینگ کا اختیار کھلاڑیوں کے ہاتھ میں دینے ” کے مترادف ہے۔ یہی نہیں، امریکی حکومت کے بہت سے سابق اہلکار کارپوریٹ لابسٹ بنے ہیں۔ غیر جانبدار تنظیم “اوپن سیکرٹس” کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں امریکی فضائی نقل و حمل کی صنعت کے کل لابنگ فنڈز 100 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ تھے جس میں ایک سر فہرست لابنگ کمپنی بوئنگ ہے۔یوں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ امریکی حکومت نے بوئنگ کے حفاظتی مسائل کے سلسلے میں اب تک کوئی معقول وضاحت کیوں پیش نہیں کی اور نہ ہی موثر نگرانی کا حل پیش کیا ہے۔ بلومبرگ جیسے غیر ملکی میڈیا کے مطابق بوئنگ کے لگاتار حفاظتی حادثات سے دنیا کی ایوی ایشن انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ امریکہ کے متعلقہ فریقین ذمہ داریوں سے بچنے کی بجائے خدشات کے جوابات دیں ۔
Trending
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
- آزاد کشمیر میں صورتحال بہتر ہوئی تو انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے: بیرسٹر گوہر
- Khloé Kardashian موسم گرما میں چھٹی کے دوران پیارے خاندانی لمحات کی جھلک پیش کرتا ہے۔
- سینیگا فٹبال کا اسپورٹس میڈیسن ڈاکٹر کی بجائے ماہر امراض نسواں دیے جانے کا الزام
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔