بیجنگ(نیوزڈیسک)چین نے افراط زر میں کمی کے امریکی ایکٹ کے تحت نئی توانائی کی گاڑیوں کے لئے سبسڈی سمیت دیگر اقدامات کے خلاف عالمی تجارتی تنظیم کے تنازعات کے میکانزم میں اپیل کی ہے۔
اس حوالے سے چین کی وزارت تجارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اورکم کاربن ماحولیاتی تحفظ کے نام پر امریکہ نے افراط زر میں کمی کا ایکٹ اور اس کی عملی تفصیلات متعارف کرائی ہیں، جس میں امریکہ سمیت مخصوص علاقوں کی مصنوعات کے استعمال کو سبسڈی کے حصول کی پیشگی شرط کے طور پر پیش کیا گیا، نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے امتیازی سبسڈی پالیسیاں تشکیل دی گئی ہیں اور چین سمیت ڈبلیو ٹی او کے دیگر ارکان کی مصنوعات کو خارج کیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اس عمل سے منصفانہ مسابقت کو مسخ کیا گیا ہےاور عالمی سطح پر نئی توانائی کی حامل گاڑیوں کی صنعتی اور سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا گیا ہے جو ڈبلیو ٹی او کے قوانین جیسے قومی سلوک اور سب سے زیادہ پسندیدہ ملک کے سلوک سمیت قوانین کی خلاف ورزی ہے اور چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ چین قوائد و ضوابط پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام کا مضبوطی سے دفاع کرتا ہے اور قواعد پر مبنی فریم ورک کے تحت صنعتی سبسڈی کے نفاذ کے لئے ڈبلیو ٹی او کے ارکان کے جائز حقوق کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی پاسداری کرے اور امتیازی صنعتی پالیسیوں کو فوری طور پر درست کرے۔
Trending
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔