کوئٹہ (نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع نوشکی میں اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کی لاشیںہفتہ کوکوئٹہ پہنچا دی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق ان افراد کا تعلق پنجاب کے دو شہروں منڈی بہائوالدین اور گوجرانوالہ سے تھا۔ کوئٹہ میں پوسٹ مارٹم کے بعد ان افراد کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی جائیں گی۔
ایس ایس پی نوشکی اللہ بخش بلوچ کے مطابق ان افراد کو مسلح شرپسندوں نے نوشکی شہر سے اندازاً چار پانچ کلومیٹر پہلے سلطان چڑھائی کے علاقے میں سرحدی شہر تفتان جانے والی ایک بس سے اتارا تھا اور کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد ان تمام افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ افراد کوئٹہ سے تفتان جانے کے لیے ایک مسافر بس میں بیٹھے تھے۔ اس علاقے میں شرپسندوں کی فائرنگ سے مجموعی طور پر11 افرادکو قتل کیا گیاجن میں سے دو کا تعلق نوشکی سے تھا۔
ایس ایس پی نوشکی نے بتایا کہ انھی شرپسندوں نے سلطان چڑھائی کے علاقے میں ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے نا رکنے پر شرپسندوں نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث گاڑی ایک کھائی میں گرگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اور گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث گاڑی میں سوار دو افرادجاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے۔
گاڑی پرفائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی شناخت داؤد مینگل اور صدام کے نام سے ہوئی۔ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی کے ایم ایس ڈاکٹر ظفراللہ نے بتایا کہ ان دونوں افراد کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی جبکہ باقی افراد گاڑی کے الٹنے کے باعث زخمی ہوئے۔
یاد رہے کہ نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں اندازاًڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ضلع کی سرحد جنوب میں افغانستان سے لگتی ہے۔
نوشکی کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے تاہم اس کے مختلف علاقوں میں پشتونوں کے بڑیچ سے قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد نوشکی میں بھی بدامنی کے بڑے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ فروری 2022ء میں نوشکی میں فرنٹئیرکور کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ نوشکی میں ماضی میں اس نوعیت کے دیگر واقعات کی ذمہ داری بھی کالعدم بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے نوشکی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے نوشکی میں قومی شاہراہ پربس سے مسافروں کے اغوا اور قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لرزہ خیز واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
وزیراعظم نے مقتولین کیلئے فاتحہ خوانی اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ رنج کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، دہشتگردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔