بیجنگ:چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ امورِ تائیوان کی پریس کانفرنس میں ایک رپورٹر نے سوال پوچھا کہ 77 ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے لیے رجسٹریشن کا دن آج ختم ہو رہا ہے ، اور تائیوان ایک بار پھر ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں شرکت کرنے سے قاصر ہوگا۔آپ کا اس پر کیا تبصرہ ہے؟
ترجمان چھن بین ہوا نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سرگرمیوں میں تائیوان کی شرکت کے معاملے کو ایک چین کے اصول کے مطابق حل کیا جانا چاہیے ، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 اور ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی قرارداد 25.1 کے ذریعہ بھی تصدیق شدہ ایک بنیادی اصول ہے۔ 2009 سے 2016 تک ، “92 اتفاق رائے” کی بنیاد پر آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے درمیان مشاورت کے ذریعے ، تائیوان کے خطے نے “چینی تائپے” کے نام سے اور ایک مبصر کی حیثیت سے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں حصہ لیا۔ یہ ایک خصوصی انتظام ہے جو “92 اتفاق رائے” پر عمل کرنے کی بنیاد پر آبنائے پار مشاورت کے ذریعے کیا گیا ہے اور ایک چین کے اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈی پی پی حکام “تائیوان کے علیحدگی پسند موقف” پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور “92 اتفاق رائے” کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اب ڈبلیو ایچ اے میں تائیوان کی شرکت کی کوئی سیاسی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے تائیوان کے علاقے کی نااہلی کی وجہ ڈی پی پی حکام تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے ہم وطن ،چینی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک خاندان ہیں۔ ہم ہمیشہ تائیوان کے ہم وطنوں کی صحت اور فلاح و بہبود کے بارے میں فکرمند رہے ہیں اور صحت کے عالمی اداروں میں تائیوان کی شرکت کے لیے مناسب انتظامات کیے ہیں۔ تکنیکی میدان میں تائیوان خطے اور ڈبلیو ایچ او کے درمیان مواصلات اور تعاون کے چینلز پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے، صحت عامہ کی مختلف ہنگامی صورتحال کے لیے معلومات اور مدد حاصل کرنے کے چینلز مکمل طور پر مؤثر ہیں اور تائیوان کے ہم وطنوں کے صحت کے حقوق مؤثر طریقے سے محفوظ ہیں. حال ہی میں، ڈی پی پی حکام نے صحت عامہ کے عالمی مسائل کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی تشویش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں تائیوان کی شرکت کے معاملے کو بار بار ہوا دی ہے، جس کا اصل مقصد نام نہاد “خودمختار حیثیت” ، “ڈبلیو ایچ او کے ذریعے علیحدگی حاصل کرنا” اور بین الاقوامی برادری کے ایک چین کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے بنیادی نمونے کو چیلنج کرنا ہے۔ ڈی پی پی حکام کی دھوکہ دہی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کو آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے ہم وطنوں اور بین الاقوامی برادری نے طویل عرصے سے دیکھ رہی ہے اور انہیں ناکام بنایا جائے گا۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔