چین میں کرپشن الزامات پر2 اعلیٰ ترین فوجی افسران برطرف
چین نے دو اعلیٰ ترین فوجی افسران ژانگ یوشیا اور لیو ژینلی کو ریاستی ‘سینٹرل ملٹری کمیشن’ میں ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق یہ فیصلہ نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
واضح رہے کہ صدر شی جن پنگ کے ماتحت فوج کے دوسرے سب سے بڑے عہدیدار اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ژانگ یوشیا (جو چین کے پولٹ بیورو کے رکن بھی ہیں) اور کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف لیو ژینلی کے خلاف رواں سال جنوری میں تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق جنوری میں چینی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ ژانگ یوشیا اور کمیشن کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار لیو ژینلی پر ’نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا شبہ ہے جو کہ چین میں بدعنوانی کے لیے استعمال ہونے والی ایک عام اصطلاح ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ حالیہ برطرفیاں صدر شی جن پنگ کے دورِ اقتدار کی اس وسیع انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہیں جس نے چینی نظام میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں، تاہم ژانگ یوشیا جیسی سینیئر شخصیت اور صدر شی جن پنگ کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے جرنیل کے زوال نے مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز چینی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی رپورٹ دیتے ہوئے شنہوا نے بتایا کہ، ’اجلاس میں ژانگ یوشیا کو عوامی جمہوریہ چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘، اس کے علاوہ جنگی منصوبہ بندی کی نگرانی کرنے والے سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لیو ژینلی کو بھی ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
PNP
Comments are closed.