صوبائی دارالحکومت لاہور میں بارش کا 44 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، ایئرپورٹ ایریا میں صبح 9 بجے تک 350 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور تاج پورہ میں دو ہفتے قبل 337 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ بارش کے دوران مختلف حادثات میں 2افراد جاں بحق اور 7 دیگر زخمی ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے علاوہ نشتر ٹاون میں 282 ملی میٹر، اقبال ٹاؤن میں 232، پانی والا تالاب میں 226 ملی میٹر، جوہرٹاون میں 222 ملی میٹر، تاج پورہ اور سمن آباد میں 220 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح لاہور کے قرطبہ چوک 218 ملی میٹر، ناخدا میں 217 ملی میٹر اور فرخ آباد میں 215 ملی میٹر اور گلشن راوی میں 210 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق لاہورمیں بارش کےدوران مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 7 دیگر زخمی ہو گئے، نشاط کالونی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جبکہ گھجومتہ میں گھرکی چھت گرنےسے ایک بچی جاں بحق اور 5 افرادزخمی ہوئے۔
ریسیکیو 1122 نے بتایا کہ جوہر ٹاون لاہور میں گھرکی چھت گرنے سے 2 افراد زخمی ہوئے، مزید کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر متعلقہ محکموں کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا۔
انتظامی افسروں اور واسا حکام کو فیلڈ میں پہنچے کی ہدایت اور پانی کی جلد نکاسی کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بارش کی پانی کے نکاس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے وارڈن اور متعلقہ انچارج موجود رہیں۔
مریم نواز نے ہدایت کی کہ گلی محلوں اور روڈز سےبارش کے پانی کی نکاسی کا آپریشن جلد مکمل کیا جائے۔
محکمہ موسمیات نے آج انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم اور 2 اگست کے دوران شدید بارشوں کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، بنوں، کرم، وزیرستان، ڈیرہ اسمٰعیل خان، اورکزئی، خیبر، مہمند، نوشہرہ، صوابی، اسلام آباد/ راولپنڈی، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر کے مقامی / برساتی ندی نالوں اور ڈیر غازی خان کے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ قلات، خضدار، بارکھان، لسبیلہ، ژوب، لورالائی، سبی، ہرنائی، آواران، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، نصیر آباد، موسیٰ خیل اور جعفر آباد میں مقامی / بر ساتی ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ ہے۔
مزید بتایا کہ شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، شیخو پورہ، قصور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2 اگست (شام/رات) کو سندھ کے نشیبی علاقے بھی زیر آب آنے کا خدشہ ہے، شدید بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں ، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔
Trending
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
- پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری
- بینک اسلامی کا پاکستان کے زرعی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق “ایگری وہیکل فائنانس” کا آغاز
- خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 29 اگست سے بارشوں کا امکان، اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔