تل ابیب:اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ خطاب تقریباً 5 منٹ تک ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔
تاہم اس دوران انہوں نے تہران میں قتل ہونے والے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
اس کے برعکس انہوں نے بیروت میں مارے گئے حزب اللہ کے ایک سینئر اہلکار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جاری جنگ بندی کے دباؤ میں آجاتا تو کبھی بھی حماس کے رہنماؤں اور دیگر ہزاروں دہشتگردوں کو ختم نہیں کرسکتا تھا۔
تل ابیب میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے مزید کہا کہ آنے والے دن اسرائیل کے لیے چیلنجنگ ہیں۔ اسرائیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ حماس، حزب اللّٰہ اور حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے ہی، اسرائیل نے حزب اللّٰہ چیف آف اسٹاف فواد شکر سے بدلہ لے لیا ہے، اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کی پراکسیز کو منہ توڑ ردعمل دیا ہے۔ اسرائیل اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور طاقت سے جواب دے گا۔ شہریوں کو مشکل دنوں کا سامنا ہوگا لیکن اسرائیل ہر طرح کی صورتحال کےلیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے تاحال حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
Trending
- جنوبی کوریا کا تمام 5 کروڑ 20 لاکھ شہریوں کو مفت اے آئی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
- سانحہ پمز: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کرکے فوجداری کارروائی کی ہدایت کردی
- زندگی رہی تو شاید بلاول کو بھی وزیر اعظم بنتا دیکھ لوں: عمران اسماعیل
- دشمن کو فائدہ پہنچانے والے بیانات سے گریز کیا جائے:مجتبیٰ خامنہ ای
- رکشہ ڈرائیور نے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا ء کرکے زیادتی کا نشانہ بناڈالا
- کورنگی میں اب صرف کام ہوگا ماموں اور مرغا بننے کا وقت ختم ہوچکا مرتضیٰ وہاب
- یوکرین میں ویئر ہاؤس پر روسی حملے میں 27 افراد ہلاک،درجنوں زخمی
- انڈسٹری لگے گی، کاروبار ہوگا تو ملک چلے گا، ہارون اختر
- مائیک ہیسن اور عاقب جاوید شہزادہ چارلس کے عشائیے میں شرکت کیلئے لندن جائیں گے
- کورنگی اور لانڈھی کے صنعتی علاقوں میں بہتری کے لیے 4 ارب روپے خرچ ہوں گے، ناصر حسین شاہ
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔