لاہور:کامیڈی کی دنیا میں انفرادیت رکھنے والے نامور کامیڈین لیجنڈ اداکار لہری کی برسی 13ستمبر کو منائی جائے گی ۔
سفیر اللہ المعروف لہری نے فلمی کیریئر کا آغاز 50کی دہائی میں کیا جو 30سال تک جاری رہا۔
انہوں نے تین سو سے زائد فلموں میں کام کیا،مزاحیہ اداکاری میں بھی منفرد انداز کے مالک رہے۔ اداکار لہری نے نگار فلمی ایوارڈ سمیت درجنوں ایوارڈ حاصل کیے، ان کی آخری فلم دھنک 1986ء میں ریلیز ہوئی۔ اداکار لہری فلمی صنعت کے بزرگ ترین فن کار تھے، انھیں مرحوم کامیڈی اداکار یعقوب کا جانشین قرار دیا جاتا تھا اور انہیں یعقوب کے مخصوص اور منفرد اسلوب کا امین بھی کہا جاسکتا ہے۔
1955میں لچھو سیٹھ شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے نے ایک فلم انوکھی بنانے کا اعلان کیا جس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان تشریف لائیں اس طرح سفیر اللہ (لہری) کو اس فلم میں اپنی خداد داد صلاحیتوں کو پردہ سیمیں پر پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
انہوں نے انسان بدلتا ہے، رات کے راہی ،فیصلہ ، جوکر ، آگ ،تم ملے پیار ملا، بہادر، نوکر، بہاریں پھر بھی آئیں گی ، افشاں اور رم جھم سمیت کم و بیش تین سوفلموں میں کام کیا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بیرون ملک فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا، پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی، اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ان کی زندگی کے آخری ایام میں اداکار معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی۔لہری 13ستمبر 2012ء کو کراچی میں وفات پا گئے۔
Trending
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔