بیجنگ:5 نومبر کو ورلڈ اوپننیس رپورٹ 2024 کا اجراء ساتویں ہونگ چھیاؤ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں ہوا ، اور ورلڈ اوپننیس انڈیکس سمیت کلیدی اعداد و شمار کی ایک سیریز کا اعلان کیا گیا۔
رپورٹ میں نئے معیار کی پیداواری صلاحیت اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور عالمی کھلے پن اور تعاون میں اس کے اہم کردار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اعلیٰ سطحی کھلے پن کے ذریعے گہری اصلاحات اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے ، عالمی اقتصادی گورننس اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر میں چین کے مثبت کردار کی تفصیلی تشریح کی گئی۔2023 میں ورلڈ اوپننیس انڈیکس 0.7542 رہا جو سال بہ سال 0.12 فیصد، 2019 سے 0.38 فیصد اور 2008 سے 5.43 فیصد کم ہے۔
عالمی کھلے پن کو درپیش تضادات، خطرات اور چیلنجز اب بھی نہ صرف موجود ہیں بلکہ شدت اختیار کر چکے ہیں ۔ ڈبلیو ٹی او کے ماڈلز کی پیش گوئی کے مطابق اگر دنیا مکمل سیاسی مسابقت میں پھنسی رہے گی تو اوسط عالمی آمدنی میں 5 فیصد اور اوسط تجارتی حجم میں 13 فیصد کی کمی واقع ہوگی۔
اس سال پہلی بار ورلڈ اوپننیس رپورٹ کی ٹیم نے دنیا کے کھلے پن کی صورتحال کے بارے میں ایک عالمی سروے کیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق، 59.7 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ 2023 میں اب تک عالمی معیشت “کم کھلی “، “غیر تبدیل شدہ” اور “غیر یقینی” ہے۔ سروے کے مطابق دنیا کے کھلے پن کو درپیش اہم چیلنجز میں بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی تنازعات ، قومی سلامتی کے تصور کا حد سے زیادہ استعمال، عالمگیریت مخالف نظریات کا عروج، یکطرفہ پسندی اور غنڈہ گردی کے اقدامات میں اضافہ شامل ہیں۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔