بیجنگ:مکاؤ کی وطن واپسی کی پچیسویں سالگرہ کی تقریبات اور مکاؤ خصوصی انتظامی علاقے کی چھٹی حکومت کی حلف برداری کی تقریب مکاؤ ایسٹ ایشین گیمز جمنازیم میں منعقد ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، عوامی جمہوریہ چین کے صدر اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے اس تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ مادر وطن میں واپسی کے بعد سے مکاؤ کی شاندار کامیابیوں نے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی اہم ادارہ جاتی فوائد رکھتی ہے اور ہانگ کانگ اور مکاؤ کی طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے یہ ایک اچھا نظام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی احیاء کے عظیم مقصد کی خدمت کے لئے اور مختلف معاشرتی نظاموں کے مابین پرامن بقائے باہمی اور جیت جیت تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ ایک اچھا نظام ہے جس پر طویل عرصے تک عمل کرنا ضروری ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ “ایک ملک، دو نظام” میں شامل امن، شمولیت، کھلے پن اور مشترکہ فوائد کی اقدار چین اور دنیا دونوں کے لیے موزوں ہیں اور اس کا مشترکہ تحفظ کیا جانا چاہیئے . شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کی مادر وطن واپسی کے بعد سے ان علاقوں کا عملی تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کی طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور “ایک ملک، دو نظام” کے مستحکم اور دور رس نفاذ کو فروغ دینے کے لئے، ہمیں چار نکات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلےیہ کہ ہمیں “ایک ملک” کی بنیاد پر عمل کرنا ہوگا اور “دو نظاموں” کے فوائد سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ ہمیں اعلی سطح کی سلامتی کو برقرار رکھنا چاہئے اور اعلی معیار کی ترقی کو فروغ دینا چاہئے۔ تیسرایہ کہ ہمیں اپنے منفرد فوائد کو مکمل طور پر استعمال کر نا چاہئے اور اندرونی اور بیرونی مواصلات کو مضبوط بنانا چاہئے اور چوتھا یہ کہ ہمیں بنیادی اقدار اور شمولیت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ اب سے لے کر آئندہ کچھ عرصے تک چینی طرز کی جدیدیت کی بدولت ملک کی ترقی اور قومی نشاۃ ثانیہ کے حصول کے لیے یہ دور کلیدی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک دو نظام” کی پالیسی نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور ہانگ کانگ اور مکاؤ کی بہتر ترقی کو عمل میں لانا ” ایک ملک دو نظام” کے نفاذ کا اہم ہدف ہے۔صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ مکاوّ خصوصی انتظامی علاقے کی نئی انتظامیہ کو تمام ساجی حلقوں کو ساتھ لے کر ” ایک ملک دو نظام” کی خوبیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے اس موقع پر اپنی چار توقعات بھی پیش کیں کہ اقتصادی تنوع کو اعتدال سے فروغ دیا جائے گا، خصوصی انتظامی علاقے کی گورننس میں بہتری لائی جائے گی، کھلےپن کے اعلی معیار ی پلیٹ فارم قائم کیے جا ئیں گے اور معاشرے میں امن و استحکام کو برقرار رکھاجائے گا۔شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں یہ امید بھی ظاہر کی کہ نوجوان “ایک ملک دو نظام”پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملک اور مکاؤ کی تعمیر میں اپنا بھرپور حصہ ادا کریں گے ۔
Trending
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔