امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے کے آخر میں پانامہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پانامہ کے صدر مولینو نے کہا کہ وہ روبیو کے ساتھ ملاقات میں پانامہ نہر کے کنٹرول کے معاملے پر بات چیت نہیں کریں گے۔ نہ ہی متعلقہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پانامہ نہر ، پانامہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، ہماری نہر مسلسل وسیع ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے منصفانہ خدمات فراہم کر رہی ہے اور عالمی تجارت کے توازن کو یقینی بنا رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ روبیو فروری کے آغاز میں پانامہ کا دورہ کرنے اور پانامہ نہر کے معائنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ پانامہ نہر ایک “امریکی اہم قومی اثاثہ” ہے، اور امریکہ پانامہ سے اس نہر کی واپسی” کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے فوجی اقدامات کے استعمال سے بھی انکار نہیں کیا۔ روبیو نے 30 تاریخ کو دعویٰ کیا کہ پانامہ نہر کا کنٹرول حاصل کرنا “امریکہ کے مفادات کے مطابق” ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ پانامہ کے دورے کے دوران متعلقہ معاملات پر بات چیت کریں گے۔ جواب میں، پانامہ کے صدر نے اسی دن پانامہ نہر پر اپنی خودمختاری پر دوبارہ زور دیا۔
Trending
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔