امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے کے آخر میں پانامہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پانامہ کے صدر مولینو نے کہا کہ وہ روبیو کے ساتھ ملاقات میں پانامہ نہر کے کنٹرول کے معاملے پر بات چیت نہیں کریں گے۔ نہ ہی متعلقہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پانامہ نہر ، پانامہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، ہماری نہر مسلسل وسیع ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے منصفانہ خدمات فراہم کر رہی ہے اور عالمی تجارت کے توازن کو یقینی بنا رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ روبیو فروری کے آغاز میں پانامہ کا دورہ کرنے اور پانامہ نہر کے معائنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ پانامہ نہر ایک “امریکی اہم قومی اثاثہ” ہے، اور امریکہ پانامہ سے اس نہر کی واپسی” کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے فوجی اقدامات کے استعمال سے بھی انکار نہیں کیا۔ روبیو نے 30 تاریخ کو دعویٰ کیا کہ پانامہ نہر کا کنٹرول حاصل کرنا “امریکہ کے مفادات کے مطابق” ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ پانامہ کے دورے کے دوران متعلقہ معاملات پر بات چیت کریں گے۔ جواب میں، پانامہ کے صدر نے اسی دن پانامہ نہر پر اپنی خودمختاری پر دوبارہ زور دیا۔
Trending
- کسی بھی مشکوک ایس ایم ایس، لنک یا ای چالان سے متعلق پیغام پر بغیر تصدیق عمل نہ کریں: ٹریفک پولیس نے عوام کو خبردا کر دیا
- ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کادعویٰ
- 400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹم سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔