امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے کے آخر میں پانامہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پانامہ کے صدر مولینو نے کہا کہ وہ روبیو کے ساتھ ملاقات میں پانامہ نہر کے کنٹرول کے معاملے پر بات چیت نہیں کریں گے۔ نہ ہی متعلقہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پانامہ نہر ، پانامہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، ہماری نہر مسلسل وسیع ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے منصفانہ خدمات فراہم کر رہی ہے اور عالمی تجارت کے توازن کو یقینی بنا رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ روبیو فروری کے آغاز میں پانامہ کا دورہ کرنے اور پانامہ نہر کے معائنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ پانامہ نہر ایک "امریکی اہم قومی اثاثہ” ہے، اور امریکہ پانامہ سے اس نہر کی واپسی” کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے فوجی اقدامات کے استعمال سے بھی انکار نہیں کیا۔ روبیو نے 30 تاریخ کو دعویٰ کیا کہ پانامہ نہر کا کنٹرول حاصل کرنا "امریکہ کے مفادات کے مطابق” ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ پانامہ کے دورے کے دوران متعلقہ معاملات پر بات چیت کریں گے۔ جواب میں، پانامہ کے صدر نے اسی دن پانامہ نہر پر اپنی خودمختاری پر دوبارہ زور دیا۔
Trending
- مٹیاری، 2 برادریوں میں جھگڑا، خاتون سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے
- یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
- پہلا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
- کائلی جینر ذاتی طور پر ٹموتھی چالمیٹ کو کیا کہتے ہیں؟ دوست فلرٹی عرفی نام ظاہر کرتے ہیں۔
- اوکاڑہ: 3 ملزمان کی لڑکی کے ساتھ گن پوائنٹ پر نازیبا حرکات، اہلخانہ کو ہراساں بھی کیا
- پاکستان کا ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے کا سنگ میل عبور
- امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
- سر پال میک کارٹنی نے آخر کار اپنے پسندیدہ دی بیٹلس ممبر کا نام لیا۔
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
- سابق ملکہ حسن اور ماڈل اداکارہ کی پُراسرار موت؛ جج ساس گرفتار
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔