چین کے اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک (DeepSeek) کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے عالمی سطح پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جو کم لاگت پر ChatGPT جیسے مغربی ماڈلز کے برابر کارکردگی پیش کرتا ہے۔ افریقہ کے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ماہرین ڈیپ سیک کے ذریعے لائی گئی تبدیلیوں کو سراہ رہے ہیں۔
گھانا کی مصنوعی ذہانت اسٹریٹجی ماہر راشدہ موسا کا خیال ہے کہ چینی کمپنی ڈیپ سیک کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ اختراعات کو شیئر کرنا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مددگار ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی خود بھی گزشتہ کامیابیوں پر استوار ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ سیک کے اوپن سورس ماڈل نے افریقہ کے ان اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو موقع فراہم کیا ہے جو زیادہ لاگت برداشت نہیں کر سکتے، تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حصہ لے سکیں اوراس ضمن میں مساوات کو حقیقت بنائیں۔ راشدہ موسا نے کہا کہ چینی کمپنیاں امریکہ کی ٹیکنالوجی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود جدت طرازی میں کامیاب ہوئی ہیں، جو افریقہ کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
Trending
- کسی بھی مشکوک ایس ایم ایس، لنک یا ای چالان سے متعلق پیغام پر بغیر تصدیق عمل نہ کریں: ٹریفک پولیس نے عوام کو خبردا کر دیا
- ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کادعویٰ
- 400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹم سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔