چین کے اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک (DeepSeek) کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے عالمی سطح پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جو کم لاگت پر ChatGPT جیسے مغربی ماڈلز کے برابر کارکردگی پیش کرتا ہے۔ افریقہ کے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ماہرین ڈیپ سیک کے ذریعے لائی گئی تبدیلیوں کو سراہ رہے ہیں۔
گھانا کی مصنوعی ذہانت اسٹریٹجی ماہر راشدہ موسا کا خیال ہے کہ چینی کمپنی ڈیپ سیک کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ اختراعات کو شیئر کرنا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مددگار ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی خود بھی گزشتہ کامیابیوں پر استوار ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ سیک کے اوپن سورس ماڈل نے افریقہ کے ان اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو موقع فراہم کیا ہے جو زیادہ لاگت برداشت نہیں کر سکتے، تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حصہ لے سکیں اوراس ضمن میں مساوات کو حقیقت بنائیں۔ راشدہ موسا نے کہا کہ چینی کمپنیاں امریکہ کی ٹیکنالوجی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود جدت طرازی میں کامیاب ہوئی ہیں، جو افریقہ کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔