بیجنگ:چین کے صدر شی جن پھنگ نے عسکری ترقی کے لئے 14 ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ معیار کے ترقیاتی تقاضوں پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سکریٹری ، چین کے صدر اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے یہ بات چین کی 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے تیسرے اجلاس میں پیپلز لبریشن آرمی اور پیپلز آرمڈ پولیس فورس کے وفد کے کل رکنی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہی۔
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چار سال سے زائد عرصے سے چینی فوج کی تعمیر کے لئے “14 ویں پانچ سالہ منصوبے” پر عمل درآمد کے بعد سے بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے بہت سے تضادات اور مسائل کا بھی سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار، اعلی کارکردگی، کم لاگت اور پائیدار ترقی کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ تعمیری نتائج تاریخ اور حقیقی جنگی آزمائش پر پورا اتر سکیں.
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چینی فوج کی تعمیر کے لئے “14 ویں پانچ سالہ منصوبے” کے اہداف اور کاموں کی تکمیل قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کے نظام کی حمایت سے لازم و ملزوم ہے۔ چین کی نئی معیار کی پیداواری قوتوں کی بھرپور ترقی سے فائدہ اٹھانا، جنگی صلاحیت کی تعمیر اور اطلاق کے طریقہ کار میں جدت لانا، تیز ردعمل اور جدید ٹیکنالوجی کی تیزی سے تبدیلی کے میکانزم کو بہتر بنانا اور نئے معیار کی جنگی صلاحیت کی ترقی کو تیز کرنا ضروری ہے۔
Trending
- ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کادعویٰ
- 400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹم سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
- آزاد کشمیر میں صورتحال بہتر ہوئی تو انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے: بیرسٹر گوہر
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔