ا
ریاض: یوکرین کے وزیر دفاع عمروف نے تصدیق کی کہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں امریکہ اور یوکرین کے وفود کے درمیان بات چیت ختم ہو گئی ہے اور "نتیجہ خیز” ثابت ہوئی ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس رات ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات "بہت فائدہ مند” تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ حقیقی جنگ بندی کے حصول کے لیے روس پر دباؤ ڈالتے رہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکا اور یوکرین طویل عرصے سے التواء کا شکار معدنی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ تاہم، امریکا نے اشارہ دیا ہے کہ "معاہدے پر دستخط کے باوجود بھی فوجی امداد دوبارہ شروع نہیں کی جا سکتی ہے۔ فی الحال امریکہ اور یوکرین نے مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
ادھر روسی صدارتی پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے 23 تاریخ کو کہا کہ "مشکل مذاکرات” ابھی شروع ہوئے ہیں، اور جنگ بندی کے نفاذ میں بہت سے حل طلب مسائل باقی ہیں. انہوں نے انکشاف کیا کہ بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے زرعی مصنوعات کی برآمد سے متعلق معاہدے کی بحالی مذاکرات کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ یوکرین، روسی توانائی تنصیبات پر حملے بند کرے۔ امریکی صدر کے معاون برائے قومی سلامتی کے امور والٹز نے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کی ثالثی کے تحت روس نے یوکرین کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے۔ تاہم یوکرینی صدر کے دفتر کے نائب سربراہ پلیزا نے کہا کہ یوکرین کا وفد ریاض میں روسی وفد سے ملاقات نہیں کرے گا۔
Trending
- پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
- عازمین حج کے لیے خوشخبری؛ حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی
- مذہبی تہواروں کا احترام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا باعث ہے: وزیراعظم شہبازشریف
- زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد
- پنجاب کے مختلف شہروں سے خودکش بمبار سمیت 16 دہشت گرد گرفتار
- فاطمہ ثناء کی چئیرمین پی سی بی سے لیگ شروع کرنے کی درخواست
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔