بیجنگ: امریکہ نے امریکہ کو برآمد کی جانے والی چینی مصنوعات پر 34 فیصد کا نام نہاد “ریسیپروکل ٹیرف” عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مزید 50 فیصد کا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے جواب میں چین کی ریاستی کونسل کے کسٹم ٹیرف کمیشن نے 9 تاریخ کو اعلان کیا کہ 10 اپریل کو دن بارہ بجکر ایک منٹ سے امریکا میں پیدا ہونے والی تمام درآمدی اشیاء پر اضافی ٹیرف کی شرح 34فیصد سے بڑھا کر 84فیصد تک کردی جائے گی۔اسی دن چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اعلان کیا کہ چین نے امریکا کی تازہ ٹیرف پالیسی کے خلاف ڈبلیو ٹی او تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کے تحت امریکہ پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے نام نہاد “ریسیپروکل محصولات” ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہیں، اور اس بار چینی مصنوعات پر اضافی 50 فیصد محصولات عائد کیے گئے ہیں، جو امریکی یکطرفہ غنڈہ گردی کو ظاہر کرتے ہیں. چین اپنے جائز حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا