جنیوا:20 سے 21 جولائی تک ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کا 2025 کا جنرل کونسل کا دوسرا اجلاس جنیوا میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوسرے روز ، یورپی یونین نےایجنڈا طے کرکے امریکی محصولات کے باعث عالمی تجارت کے ٹکڑے ہونے پر تنقید کی۔سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ نے “فرینڈز آف دی سسٹم” کے ارکان کی جانب سے ایک ایجنڈا طے کیا جس میں موجودہ تجارتی افراتفری سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں چین نے کہا کہ امریکہ کی”ریسیپروکل محصولات” نے کثیر الجہتی تجارتی نظام اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد یکطرفہ محصولات سے ڈبلیو ٹی او کے تمام ارکان متاثر ہوئے ہیں اور کچھ اقدامات کی شفافیت کے فقدان نے عالمی تجارت کو غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں خلل، بڑھتی ہوئی اقتصادی لاگت اور تجارتی قوانین کو ٹکڑے ٹکڑےکرنے کے خطرےسے دو چار کر دیا ہے۔ یورپی یونین نےمطالبہ کیا کہ ڈبلیو ٹی او کے شفافیت کے میکانزم کے کردار کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے تاکہ ارکان کے درمیان مکالمے کے لئے فریم ورک فراہم کیا جائے۔ متعلقہ ارکان کو اپنی نوٹیفکیشن کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا اور دوطرفہ انتظامات ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔ “فرینڈز آف دی سسٹم” کے اراکین نے ممبران پر زور دیا کہ وہ جرات مندانہ اجتماعی اقدامات اور ڈبلیو ٹی او اصلاحات کی گہرائی سے پیش رفت کے ذریعے موجودہ عالمی تجارتی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لئے یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنائیں۔
Trending
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔