چلی کے صدر گیبریل بوریک نے اپنے قومی خطاب کے دوران اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی عوام پر کیے جانے والے “نسل کشی اور ایتھنک کلنزنگ کے مظالم” کی سخت مذمت کی۔
بوریک نے کہا کہ چلی کی حکومت اسرائیلی غیرقانونی قبضے والے علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے چلی کے وزیر دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی صنعت پر انحصار ختم کرنے کے لیے دفاعی شعبے میں درآمد کا نیا منصوبہ تیار کریں۔
اکتوبر 2023 میں چلی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے “بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور ناقابل قبول رویے” کی وجہ سے انھوں نے اپنے سفیر کو اسرائیل سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سال 28 مئی کو، چلی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے “انسانی بحران انتہائی سنگین ہونے” کے باعث چلی نے اسرائیل سے اپنے ڈیفنس اتاشی کو واپس بلا لیا ہے۔
Trending
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
- سلطان آف جوہر کپ ہاکی کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
- فرانس کی سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ ، ملین ڈالر کا نقصان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔