گزشتہ سال ایشیاء اور بحرالکاہل کے نصف سے زیادہ امریکی باشندوں کو نفرت انگیز حملوں کا سامنا کرنا پڑا ، سروے
امریکہ کے "اسٹاپ ایشین امریکن ہیٹ اینڈ پیسیفک آئی لینڈرز الائنس” نے دو جون کو تازہ ترین سروے رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیاستدانوں کے تارکین وطن مخالف بیانات اور امریکہ میں "بڑھتے ہوئے منظم امتیازی رویے” کی وجہ سے، امریکی معاشرے میں ایشیا ئی اور بحرالکاہلی کمیونٹی کے خلاف نفرت کے رجحان میں 2024 میں مزید شد ت ہوئی ہے اور سروے میں شامل نصف سے زیادہ افراد نے کہا کہ انہیں نفرت انگیز حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سروے جنوری میں شکاگو یونیورسٹی کی جانب سے مکمل کیا گیا تھا جس میں 1600 جواب دہندگان کو شامل کیا گیا تھا۔ سروے کے نتائج کے مطابق 53 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ انہیں گزشتہ سال نفرت پر مبنی حملے کا سامنا کرنا پڑا، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد کا اضافہ ہے، 18 سے 29 سال کی عمر کے 74 فیصد نوجوانوں کو نفرت انگیز حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی 83 فیصد جواب دہندگان نے امریکہ میں نسلی تعلقات کے موجودہ ماحول کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تارکین وطن مخالف جذبات امریکہ بھر میں ایشیا ئی اور بحرالکاہلی نژاد امریکیوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں کا محرک بن رہے ہیں، جو موجودہ امریکی انتظامیہ کے تارکین وطن مخالف ایجنڈے کی وجہ سے ہے۔