استنبول: روس اور یوکرین کے وفود نے ترکیہ کے شہر استنبول میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، مذاکرات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہے، ترکیہ کے صدر ایردوان نے کہا کہ مذاکرات میں “اہم نتائج” حاصل ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے بڑی تعداد میں تبادلے اور ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں کی واپسی سمیت معاملات پر اتفاق ہوا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے بیانات میں تھوڑا سا فرق ہے۔
مذاکرات کے بعد، روسی صدر کے معاون اور روسی وفد کے سربراہ میڈنسکی نے میڈیا کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ روس اگلے ہفتے یکطرفہ طور پر 6 ہزار یوکرینی فوجیوں کی لاشیں واپس کرے گا۔ اگر یوکرین کے پاس روسی فوجیوں کی لاشیں ہیں تو روس انہیں وصول کرے گا۔
یوکرینی وفد کے سربراہ اور وزیر دفاع عمریف نے مذاکرات کے بعد کہا کہ یوکرین اور روس دونوں تمام شدید زخمی اور بیمار جنگی قیدیوں اور 25 سال سے کم عمر قیدیوں اور فوجیوں کی لاشوں کے تبادلے پر متفق ہو گئے ہیں۔
روس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ میڈنسکی نے یہ بھی کہا کہ روس نے یوکرین کو یوکرین کے مسئلے پر امن میمورنڈم پیش کیا ہے، جس پر یوکرین نے ایک ہفتے کا وقت لے کر اس دستاویز کا جائزہ لینے اور مزید اقدامات کو مربوط کرنے کا اظہار کیا ہے۔
دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے دورانیے پر اختلافات کا اظہار کیا، یوکرین کی جانب سے 30 دن کی جنگ بندی کی خواہش کی گئی جبکہ روس نے کچھ علاقوں میں 2 سے 3 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔