اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی نگرانی کی ہے، جبکہ فضائی دفاعی نظام بھی فعال ہے۔ وسطی علاقے کے کئی مقامات پر فضائی دفاعی سائرن بجے ہیں۔
ایران کے مطابق اسرائیل پر ہونے والے یہ میزائل حملے حوثی جنگجووں کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
22 جون کو اسرائیلی دفاعی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اور امریکی فوج کی ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری ایران کے خلاف ایک “اہم قدم” ہیں، اور ایران کی فوجی صلاحیت “آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہی ہے”۔
23جون کو اسرائیل نے تہران کے جنوب مشرق میں واقع ایران کے بڑے فوجی اڈے “پارچین” پر فضائی حملہ کیا۔یہ بتایا گیا ہے کہ پارچین فوجی اڈہ تہران کے جنوب مشرق میں تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہ اڈہ میزائل، ڈرون اور دیگر ہتھیاروں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی روز ایران کی جانب سے اسرائیل کے “ہرمیس 900 ڈرون” کو بھی مار گرانے کا دعوی کیا گیا ہے ۔
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے فرانس کے صدر میکرون سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنی جارحیت کی قیمت چکانا ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے حملے میں پہل کی ہے ۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں نے اس کے “مذاکرات اور امن” کے دعوؤں کو بے اثر اور بے بنیاد ثابت کیا ہے۔ ایرانی قوم کبھی بھی طاقت کے سامنے نہیں جھکے گی، اور جارحیت کا مناسب جواب ضرور دے گی۔
Trending
- کسی بھی مشکوک ایس ایم ایس، لنک یا ای چالان سے متعلق پیغام پر بغیر تصدیق عمل نہ کریں: ٹریفک پولیس نے عوام کو خبردا کر دیا
- ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کادعویٰ
- 400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹم سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔