تحریر:۔میر بشیر سلطان(ابن کشفی)
میں نے بارہا کمپیوٹر آن کیا کہ نواز رضاء سے اس کی تصانیف کے بارے میںتبصرہ تحریر کرنے کا دیرینہ وعدہ ایفاء کروں
مگر ہر بار ہمت جواب دے گئی کہ کس پہلو سے آغاز کروں، نواز رضاء کی شخصیت کے اس قدر تہہ بہ تہہ پہلو ہیں کہ اگر ایک پہلو پر کچھ لکھنا چاہو تو انسان خود مصنف بن جاتا ہے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ نواز رضاء ایک سیلف میڈ انسان ہے ۔ کالج کے زمانے میں سیاست کی وادی پرخار میں قدم رکھا۔فیلڈمارشل ایوب خان کا دور اقتدار تھا، اس دور میں کسی کو تحریک چلانا تو دور کی بات ،زبان کھولنے کی جرات نہیں
کر سکتا تھا ،مگر اس دیوانے نے جرات رندانہ سے کام لیتے ہوئے آمریت کے ایوان میں دراڈ ڈال کر دوسروںکی رہبری کی۔ وہ ایک طفل مکتب کی طر ح نتائج و عواقب سے لاپرواہ میدان میں کود پڑا۔ آمریت کا عفریت اتنا غضب ناک ہوا کہ اس ناسمجھ طالب علم کو لاٹھیوں
اور ڈ نڈوں کے ساتھ جیل کی سلاخوں کی بھی ہوا کھانی پڑی ۔گریجویشن کے بعد صحافت کی خار دار وادی میں قدم رکھا۔ وہ نصف صدی سے زائد عرصہ پیشہ صحافت سے وابستہ ہیں کالج لائف کی سیاست ترک کر کے قلم بردارہو کر فوجی ّآمریت کے آگے ڈٹ گیا۔ اپنی شبانہ روز محنت سے اپنا مقام پیدا کر لیا۔ قسمت کا دھنی تھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا صحافت کی باگ ڈور سنبھال لی اورسولہ سال تک صحافیوں کی تنظیم کا بلا شرکت غیرے مدار المہام بن کر حکمرانی کی ۔ اس زمانے میں محسن صحافت جناب حمید نظامی مرحوم کا صحافت میں ڈنکا بج رہا تھا ۔انہوں نے اپنے مقبول عام اخبا ر روز نامہ نوائے وقت میں ان کونہ صرف ملازمت وی بلکہ صحافیوں کی تنظیم کے سربراہ کے طور پر ان کی بھر پور سرپرستی کی ۔ دہائیوں پر محیط رشتے میں ان کے ساتھ بندھے رہے۔جو 1980سے 2021ء تک قائم رہا ۔ انہوں نے ایک طرف
بطور چیف رپورٹر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایااور اس کے ساتھ اس جریدہ کے صفحات پر اسلام آباد نوٹ بک ،مارگلہ کے دامن سے ، قومی افق
کی تحریروں سے شائع ہونے والی تحریروں سے اپنا منفرد مقام پیدا کیا۔اپنے کیریر کے دوران انہوں نے نہ صرف قومی تحریکوں اور
اہم سیاسی واقعات کی کوریج کی بلکہ بے شمار سیاسی اور مذہبی رہنمائوں کے یادگار انٹرویو کئے۔ ان میں سے اکثر کے ساتھ ان کے عمر بھر کے
تعلقات اور قریبی مراسم استوار ہوئے،جو وقت کے ساتھ قربت میں بدل گئے۔ان میں سے میاں نواز شریف کے ساتھ تعلقات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ الحاج نواز رضاء صحافتی منظر نامے کی ایک اہم اور قابل قدر شخصیت ہونے کے ساتھ پیشہ ورانہ دیانت، قائدانہ صلاحیتوںاور آزادی صحافت و اظہار رائے کی بے باکانہ اور بے لاگ وکا لت کی علامت ہیں ۔ وہ اس وقت بھی پی ایف یو جے دستور کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے حقوق، ان کے معاشی تحفظ، میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیئے ہر سطح پر بھر پور آواز بلند کر رہے ہیں ۔ مسلسل سولہ سال تک راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے صدر رہے،جبکہ بعد ازاں 8 دیں ویج بورڈ، اے پی پی کے بورڈآف
ڈائریکٹرز اور فیڈرل گورنمنٹ ہاوئسنگ فیڈریشن کی ہاوسنگ کمیٹی کے رکن رہے۔انہوں نے بطور قائد جڑواں شہروں کے صحافیوں
کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی اور صحافیوں کے لیے جی،14 اور میڈیا ٹائون میں پلاٹس کی الائٹمنٹ کو ممکن بنایا۔ ان کی گرانقدر
خدمات کے اعتراف میں انہیں نامور اایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی جانب سے گولڈ میڈل ،متعدد تنظیموں کی جانب سے لائف ٹائم
ایچیومنٹ ایوارڈ،جنکہ سال2018ء میں حکومت پاکستان صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے نوازا گیا۔ نواز رضاء انتہائی شریف النفس اورتحمل و بردباری کی مثال ہیں۔دطن عزیز کے قوی سطح کے ہر قابل ذکر سیاستدان اور ایک عام سیاسی کارکن کیساتھ ان کے قریبی مراسم ہیں۔ پیشہ ورانہ صحافتی خدمات کے ساتھ انہوں نے کالم نگاری اور مضمون نگاری میں بھی اپنے زور قلم کا لوہا منوایا۔
ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد افتاد طبع بھلا ان کو کہاں چین سے بیٹھنے دیتی ۔ انہوں نے اپنا چینل کھولنے اور ایک روزنامہ جریدے کے اجراء کے ساتھ تصنیف و تالیف کا بار گراں بھی سنبھال لیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چھکوں کی برسات کر دی ۔ انہوں نے اپنے صحافتی دور کی تحریروں اور کالموں کو کتابی شکل میں ترتیب دے کر ایک گراں قدر سرمایہ محفوظ کر لیا ہے۔ تالیف و تدوین میں اب تک ان کی پانچ کتب منظرعام پر آچکی ہیں۔ ان میں روداد سیاستI،II،III , مرد آہن ۔۔میاں نواز شریف اورچودھری نثار علی خان ،،حکومت ،
اپوزیشن اور پارلیمینٹ کی روداد شامل ہیں۔ ان کتب کا مواد ان کے دور صحافت میں لکھے گئے کالموں پر مشتمل ہے۔ یہ تصانیف ریفرنس بک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا جنوں ابھی کم نہیں ہوا ہے ، تقاریب کا اہتمام کرنے کے فن کو انہوںنے زندہ رکھا ہوا ہے ۔سٹیج کی رونق بنے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی دور کے کالموں کو کتابی شکل میں ترتیب دینے کے ساتھ ایک نئی طرح کی بنیاد بھی رکھی ہے ۔ ملک کے چار مر تبہ وزیر اعظم رہنے کا اعزاز پا نے والے میاں نواز شریف کے ادوار اور سیاسی ابتلاء کے دور میںان کے حوالے سے لکھے گئے کالموں کو الگ کتابی شکل میں ترتیب دے کر شائع کر کے سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے گرانقدر مواد فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ میرا نواز رضاء کے ساتھ دیرنیہ ،قر یبی اور گہرا تعلق چلا آرہا ہے جب انہوں نے زمانہ طالبعلمی میں سیاست میں قدم رکھا تو وہ اپنے بیانات لے کر نوائے وقت آیا کرتے تھے اور میں ان کی اشاعت کا اہتمام کیا کرتا تھا ،بعد ازاں وہ میرے رفیق کار بن گئے اور اس طرح ان سے قربت بڑھتی چلی گئی۔ ان کا شمار اسلام اور نظریہ پاکستان کی پاسداری کرنے والے صحافیوں کے سرخیلوں میں ہوتا ہے۔ وہ جرات اور استقامت کے ساتھ ہر موضوع پرقلم اٹھاتے رہے ہیں ۔ نواز رضاء اپنی نجی زندگی میں بھی ایک وضع دار شحصیت ہیں ، خوش خوراکی ان کی ایک نمایاں صفت ہے۔ بقول ممتاز کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی کتابیں دو طرح کی ہوتی ہیں ۔ایک وہ جنہیں پڑھ کر وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور دوسری وہ جنہیں پڑھ کر اس وقت کا پتہ چلتا ہے جو ماضی ہو چکا ہے ۔ نواز رضاء کے میاں نواز شریف کے بارے میں لکھے گئے کالموں کا کتابی مجموعہ”مرد آہن، محمد نواز شریف ۔۔۔۔اقتدار، اپوزیشن”صرف نواز شریف کو ہی زیر بحث نہیں لاتا،بلکہ عمومی طور پر پاکستان کے
ماضی ،حال اور مستقبل کی جھلک بھی دکھاتا ہے
نواز رضاء ایک وضع واراورسادہ طبعیت کا انسان ہے اس کا ظاہر و باطن ایک ہے اور یہی اسکی ہردلعزیزی کی دجہ ہے ،اس میں نہ کوئی بناو ٹ ہے اور نہ ہی کوئی الجھاو۔اس کا کوئی مخالف بھی اسے کوئی کام کہہ دے تو اسے وہ پائیہ تکمیل تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔اس پیرانہ سالی میںبھی جبکہ وہ بمشکل اپنا بوجھ سنبھالے ہوئے ہے وہ ایک جدوجہد اور مسلسل تگ ودو کی علامت ہے ۔نواز رضاء کی مقبولیت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ دائیں بازو کی ہرسیاسی اور مذہبی جماعت اور تنظیم کے ساتھ ان کے قریبی روابط ہیں۔نواز رضاء کی پہلو وار شخصیت کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے،بحیثت انسان وہ ایک عظیم شخصیت کا حامل ہے۔