by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پاکستان کا پہلا ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ ۔چین پاکستان خلائی تعاون کا ایک نیا باب

0

تحریر: اعتصام الحق

 

 

19 اکتوبر کو شمال مغربی چین سے لانچ کیے گئے کمرشل کیرئیر راکٹ کے ذریعے ایک پاکستانی سیٹلائٹ سمیت تین سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا، جو کامیابی سے اپنے مطلوبہ مدار میں داخل ہوئے۔یہ کیرئیر راکٹ، جس کا نام لیجیان-1 وائی8 ہے، اتوار کی صبح 11:33 منٹ پر ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا، جو کہ جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر کے قریب واقع ہے۔
یہ تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے پاکستان نے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ایچ ایس۔1 کامیابی سے خلا میں بھیجا ہے۔ یہ جدید مشن سپارکو کے ماہرین نے تیار کیا اور اس کا بنیادی مقصد پورے ملک میں ماحولیاتی نگرانی، زرعی منصوبہ بندی اور شہری ترقی کا معیاری ڈیٹا فراہم کرنا ہے۔سپارکو نے اس لانچ کی تصدیق کرتے ہوئے اسے پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

 

یہ سیٹلائٹ فصلوں کی حالت، مٹی کی صحت اور پانی کے معیار کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے سکے گا۔ اس کا اہم استعمال چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے بنیادی ڈھانچوں کے راستوں کے گرد غیریقینی عوامل جیسے جنگلات کی کٹائی، آلودگی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ اور قدرتی آفات کی نگرانی کرنا ہے۔

 

ایچ ایس۔1 ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو سینکڑوں روشنی کی لہروں میں تفصیلی مشاہدہ فراہم کرتا ہے۔ یہ وہ خصوصیات دریافت کر سکتا ہے جو عام سیٹلائٹ یا انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی ، اور اس ڈیٹا کا استعمال وسائل کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ میں انقلاب کی صورت اختیار کر سکتا ہے ۔

 

یہ لانچ چین اور پاکستان کے درمیان خلائی تعاون کی ایک اور مثال ہے، اور سی پیک منصوبوں کے تناظر میں ٹیکنالوجی اشتراک کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہے۔ ایچ ایس۔1 کی کامیابی کے بعد پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو ہائپر اسپیکٹرل ٹیکنالوجی کو قومی ترقی اور پائیدار منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سنتھیٹک ڈیٹا فراہم کرتی ہے، جو فصلوں میں غذائیت کی کمی، پانی کی کمی یا آلودگی جیسی باریک تفصیلات جمع کر سکتا ہے ۔اس ٹیکنالوجی کی بدولت زرعی پیداوار کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے گا، اور کسانوں کو بہتر مشورے مل سکیں گے، جیسے پانی کی آبیاری کا مؤثر نظام، ادویات کا استعمال اور فصل کے وقت کی منصوبہ بندی وغیرہ۔ ماحولیاتی نگرانی کے ضمن میں، جنگلات کی کٹائی، آلودگی کا پھیلاؤ، گلیشیئر پگھلاؤ اور قدرتی آفات کا تجزیہ باقاعدہ انداز میں کیا جا سکے گا۔اس ڈیٹا کا استعمال شہروں کی منصوبہ بندی میں بھی ہو گا جیسے زمین کا استعمال، توسیع، رہائشی ڈھانچے، سبز علاقوں کی منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی نشاندہی۔

 

یہ منصوبہ پاکستان کی نیشنل اسپیس پالیسی اور وژن 2047 کا حصہ ہے، جس کا ہدف خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی، قدرتی آفات کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ایچ ایس۔1 کی کامیاب لانچنگ پاکستان کے خلائی پروگرام کے نئے دور کا آغاز ہے ۔ ایک ایسا دور جو ٹیکنالوجی کے عملی اطلاق اور قومی منصوبہ بندی کی تائید پر مبنی ہو گا۔
یہ 2025 میں پاکستان کا تیسرا سیٹلائٹ ہے ۔ اس سے قبل جنوری میں ای او۔1 اور جولائی میں ایس۔1 کی کامیاب لانچگ ہو چکی ہے ، اور دونوں ابھی فعال ہیں اور زمین کی نگرانی اور مواصلاتی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ نیا سیٹالائیٹ مکمل فعال ہونے سے پہلے تقریباً دو ماہ تک مدار میں تجربے کی اپنی مدت مکمل کرے گا ۔
چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات نے طویل عرصے میں کئی شعبوں میں ترقی کی ہے، بشمول دفاع، توانائی، مواصلاتی ڈھانچے اور اب خلائی ٹیکنالوجی۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور اس کےحصے سی پیک کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نافذ کیے ہیں۔ خلائی تعاون کو ایک طبیعی توسیع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے یعنی کہ چین پاکستان کے مراکز کو اپنی خلائی صلاحیت سے جوڑنا چاہتا ہے تاکہ علاقائی ترقی اور خود کفالت کو فروغ دے سکے۔ ایک تحقیقاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ چین-پاکستان خلائی تعاون کو “سپیس سلک روڈ” کے نظریے کے تحت سی پیک ڈھانچے میں ضم کیا گیا ہے، تاکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے خلائی وسائل کا اشتراک ممکن ہو سکے۔
چین نے پاکستان کو کئی سیٹلائٹس فراہم کیے ہیں یا انہیں خلائی پرواز میں مدد دی ہے، جیسے کہ PRSS-1، EO-1، اور KS-1 مشنز۔ پاکستان اور چین نے ایک مشترکہ خلائی تربیتی مرکز قائم کرنے اور پاکستانی خلا باز وں کی تربیت پر غور کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جو اس شراکت داری کی گہری سمت کو مزید ظاہر کرتا ہے۔ سی پیک بنیادی ڈھانچے، توانائی، نقل و حمل، اور صنعتی زون کے منصوبوں کا مجموعی منصوبہ ہے جو چین کے صوبہ سنکیانگ سے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو ملاتا ہے۔

 

ایچ ایس۔1 کی ہائپر اسپیکٹرل صلاحیت سی پیک منصوبوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ وہ انفراسٹرکچر کے قریب علاقوں میں ماحولیاتی تغیرات، زمینی خطرات، زمین کی حرکت، آلودگی اور پانی کے معیار پر مؤثر نگرانی فراہم کر سکتی ہے۔یعنی سی پیک کی منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال کے دوران، اس طرح کا ڈیٹا ترقیاتی فیصلوں کو زیادہ مؤثر، ماحولیاتی لحاظ سے مستحکم اور رکاوٹوں سے پاک بنا سکتا ہے۔مثال کے طور پر، اگر کسی پُل، سڑک یا دریائی رابطے کے منصوبے کے قریب زمینی شرائط غیر مستحکم ہوں تو ایچ ایس۔1 ڈیٹا ان خدشات کی پہلے ہی نشاندہی کر سکے گا اور انجینئرنگ منصوبہ سازوں کو بہتر رہنمائی دے سکے گا۔

 

چین-پاکستان خلائی تعاون نے اب ایک نئے مرحلے کی جانب رخ اختیار کیا ہے ۔ زمین کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر اب خلائی رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو مؤثر منصوبہ بندی، تعلیمی و تحقیقی ترقی اور ڈیٹا استعمال کے اصولوں کے تحت بروئے کار لائے تو نہ صرف ٹیکنالوجی میں خود مختاری حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ علاقائی و بین الاقوامی سطح پر خود کو خلائی تحقیق میں با وقار ممالک کی صف میں بھی کھڑا کیا جا سکتا ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.