by Rao Imran Suleman
Rao Nama

اسلام آباد میں ازبک صدر شوکت مرزییوف کی اصلاحات پر مبنی کتاب کی تقریبِ رونمائی

0

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے ازبکستان کے سفارتخانے کے تعاون سے کتاب ’’شوکت مرزییوف: اصلاحات اور علاقائی انضمام کے عظیم رہنما‘‘ کی رونمائی کی تقریب منعقد کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی تھے۔ دیگر مقررین میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود، ڈائریکٹر چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر (سی پی ایس سی) ڈاکٹر طلعت شبیر، ازبکستان کے سفیر علیشر طحتایف، مصنف ڈاکٹر محمودالحسن خان، صدر سینٹر فار سائوتھ ایشیا اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میجر جنرل (ر) سید خالد امیر جعفری اور ڈین بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر آدم سعود شامل تھے۔

تقریب کا آغاز پاکستان اور ازبکستان کے قومی ترانوں سے ہوا جس کے بعد ازبک صدر شوکت مرزییوف کی کامیابیوں پر مبنی ایک ویڈیو دکھائی گئی۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ یہ کتاب ازبکستان کے روشن مستقبل اور صدر مرزییوف کی بصیرت افروز قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مرزییوف کا اصلاحاتی ماڈل دیگر ممالک کے لیے قابل تقلید ہے،ازبکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی روابط پاکستان اور ازبکستان کو مزید قریب لا رہی ہے۔ڈاکٹر طلعت شبیر نے اپنے ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر محمودالحسن خان کو ان کی علمی کاوش پر مبارکباد دی اور کہا کہ کتاب میں صدر مرزییوف کی وژنری قیادت اور ازبکستان کے اصلاحاتی عمل کو اجاگر کیا گیا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور علاقائی روابط کے مشترکہ وژن پر بھی روشنی ڈالی۔سفیر سہیل محمود نے مصنف کی تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر مرزییوف کی قیادت میں ازبکستان نے 2016ء سے ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈا اپنایا جس نے داخلی گورننس اور خارجہ پالیسی دونوں میں نئی روح پھونک دی۔ انہوں نے صدر مرزییوف کی جامع سوچ، جدیدیت کے فروغ اور ایک ’’سماجی ریاست‘‘ کے قیام کے عزم کو سراہا جس کا مقصد تعلیم، غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے ٹرانس افغان ریلوے اور سرخان-پل خمری پاور ٹرانسمیشن جیسے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ازبکستان کے خطے میں تعاون اور انضمام کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان ایمان، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کا سٹریٹجک پارٹنرشپ باہمی اعتماد اور مشترکہ اہداف پر مبنی ہے۔ انہوں نے تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، سلامتی اور ثقافتی روابط میں بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا۔ سفیر سہیل محمود نے ’’وژن سینٹرل ایشیا‘‘ کے پانچ نکاتی ایجنڈے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک، CASA-1000 اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے خطے کو جوڑنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2026ء میں مغل سلطنت کے قیام کی 500 ویں سالگرہ منائی جائے گی اور پاکستان و ازبکستان کو اس تاریخی موقع کو شایان شان طریقے سے منانا چاہیے۔

ازبکستان کے سفیر علیشر طحتایف نے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ازبکستان کے ترقیاتی ماڈل پر علمی دلچسپی اور مصنف کی کئی سالوں کی تحقیق کا مظہر ہے۔ انہوں نے اسے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک مثبت کاوش قرار دیا۔مصنف ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ یہ کتاب پاکستان، ازبکستان اور وسطی ایشیا کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ انہوں نے صدر مرزییوف کی قیادت میں ازبکستان کی معاشی ترقی، غربت میں کمی، اور جدید اصلاحات کو اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کتاب میں 39 سے زائد موضوعات شامل ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور مشترکہ وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔میجر جنرل (ر) سید خالد امیر جعفری نے صدر مرزییوف کے ’’نئے ازبکستان‘‘ کے وژن کی تعریف کی جو کھلے پن، جدیدیت اور عالمی انضمام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان اقتصادی اصلاحات، توانائی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر آدم سعود نے کہا کہ صدر مرزییوف کی قیادت میں ازبکستان کی فی کس آمدنی دگنی ہو چکی ہے جو مضبوط معاشی ترقی کی علامت ہے۔ انہوں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی و تعلیمی روابط کو بھی سراہا اور محققین کو کتاب کے مطالعے کی ترغیب دی۔تقریب میں سفارتکاروں، سرکاری حکام، ماہرین تعلیم، تھنک ٹینک کے نمائندوں اور میڈیا سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.