بیجنگ :رپورٹس کے مطابق، جاپانی حزبِ اختلاف کے سربراہ نے سانائے تاکائیچی کے حزبِ اختلاف کی بحث میں دیے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سانائے تاکائیچی مزید مخصوص مثالوں کا تذکرہ نہیں کریں گی ، دراصل انہوں نے اپنے گزشتہ بیانات واپس لے لیے ہیں۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے یومیہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ "مزید ذکر نہ کرنا” اور "غلط بیانات واپس لینا” دو مختلف چیزیں ہیں۔ جاپانی فریق کی خواہش ہے کہ "مزید ذکر نہ کرنا” کے ذریعے سانائے تاکائیچی کے سنگین غلط بیانات کو نرم یا چھپایا جائے، یہ خود سرانہ بیانیہ ہے اور چین اسے بالکل قبول نہیں کرے گا۔ امریکی اور جاپانی رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے متعلق سوال کے جواب میں گو جیا کھون نے کہا کہ امریکی اور جاپانی رہنماؤں کی بات چیت امریکہ اور جاپان کے درمیان ہے، چین اس پر تبصرہ نہیں کرتا۔ تائیوان کے امور چین کا داخلی معاملہ ہے اور کسی بھی بیرونی قوت کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟
- راولپنڈی ،والدین میں علیحدگی، باپ کا تشدد ، جنسی زیادتی،14 سالہ بچی کی درد ناک کہانی
- مختلف پوزیشن پر مختلف انداز میں کھیلنا ہوتا ہے، بابر اعظم