بیجنگ :چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے دوران کہا کہ جاپان کے حالیہ خطرناک اقدام پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ جاپان کی موجودہ وزیرِ اعظم نے کھلے عام یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے تائیوان میں کسی بھی ہنگامی صورت حال کو جاپان اجتماعی حقِ دفاع اور بقا کے بحران کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد 80 برس میں پہلی بار ہے کہ جاپانی وزیرِ اعظم نے اس نوعیت کا بیان دیا ہے، جو چین کی قومی خودمختاری کو براہ راست چیلنج کرتا ہے، جنگ کے بعد تائیوان کی چین کو واپسی پر قائم بین الاقوامی نظام کو براہ راست چیلنج کرتا ہے، اور جاپان کی جانب سے چین سے کیے گئے سیاسی وعدوں سے صریح انحراف ہے۔وانگ ای نے مزید کہا کہ نے جرمنی نے جنگ کے بعد فاشزم کا ہمہ گیر احتساب کیا اور نازی نظریات کی تشہیر پر پابندی عائد کرنے والے قوانین بنائے، جبکہ جاپان آج بھی کلاس اے جنگی مجرموں کی یادگاروں کو تقدیس کے ساتھ پیش کرتا اور انہیں “روحانی ہیرو” قرار دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی تمام مسائل کی جڑ ہے۔وانگ ای نے زور دے کر کہا کہ جاپان نے ماضی میں بھی اسی نام نہاد “بقا کے بحران” کے بہانے چین کے خلاف جارحیت کی اور امریکہ کے پرل ہاربر پر حملہ کیا۔ امن سے محبت رکھنے والے تمام ممالک کو جاپان کو متنبہ کرنا چاہیے کہ اگر اس نے ماضی کی راہ پر لوٹنے کی کوشش کی تو یہ خود اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ اگر دوبارہ کسی قسم کا کھیل کھیلا گیا، تو شکست پہلے سے زیادہ تیز اور نقصان پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوگا۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا